خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 100
خطبات مسرور جلد 12 100 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء حیات واموات کے مسئلے کی ضرورت نہیں ، ایمان لے آئے اور بیعت میں داخل ہوئے۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 6 صفحہ 178 روایت حضرت عبدالستار صاحب) پھر سر دار کر مداد صاحب " روایت کرتے ہیں کہ : ” میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بیعت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا۔وہ اس طرح کہ ایک سڑک ہے اس پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مل کر ٹہلتے آرہے ہیں۔بندہ سامنے سے آ رہا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بندہ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں، (انگلی کا اشارہ کر کے ) کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔یہ خدا کی طرف سے ہے۔یعنی تین دفعہ حضور نے فرمایا۔جب میں نے 1902ء میں بمقام قادیان دارالامان میں جبکہ چھوٹی مسجد ہوا کرتی تھی، بیعت کی تو اُسی حلیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پایا (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 5 صفحہ 1 روایت حضرت سردار کرم داد خان صاحب) اس زمانے میں پھر ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کا نظارہ دیکھتے ہیں۔محمد بن احمد صاحب جرمنی میں رہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک عرصے سے میں یہ لکھنے کا سوچ رہا تھا لیکن بار بار لکھنے میں تر در پیدا ہوا۔کیونکہ جب تک میں ایک خاص روحانی کیفیت میں نہ ہوں، خدا تعالیٰ کی رضا کو محسوس نہ کر رہا ہوں، لکھنے نہیں بیٹھتا۔کہتے ہیں۔خاکسار اس وقت جرمنی میں انجینئر نگ پڑھ رہا ہے۔بچپن اور جوانی اپنی فیملی کے ساتھ سعودی عرب میں گزاری جہاں احمدیت کا نام تک نہ سنا تھا۔2004ء یا 2005ء میں خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔اُس وقت ہم ایک خوبصورت مینار میں تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کر رہے تھے جو اپنے جو بن پر اور ہمارے بالکل قریب تھا۔چاند کی روشنی ہمارے چاروں طرف دُور دُور تک پھیلی ہوئی تھی جس کے درمیان میں ایک مینار تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کی طرف اشارہ کر کے مجھے بتارہے تھے جسے میں پہلے نہیں جانتا تھا۔آپ میرے ساتھ اتنی محبت اور شفقت سے پیش آرہے تھے کہ جس کا بیان ناممکن ہے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔حضور کے چہرہ سے اہل دنیا کے لئے ہموم و عموم کا بوجھ ہو یدا تھا۔پھر میں بیدار ہو گیا اور یوں محسوس ہوا جیسے میں زمین سے بلند ہوں۔اس کے بعد کئی روز تک لوگوں سے میرا سلام کلام بہت کم رہا۔مجھے اس خواب کی کچھ سمجھ نہ آئی، یہاں تک کہ میرے والد صاحب نے بعد میں اس بارے میں بتایا۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب والد صاحب نے بتایا کہ انہیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں 1979ء میں میری ولادت کی بشارت دی تھی