خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 102
خطبات مسرور جلد 12 102 خطبه جمعه فرموده مورخه 14 فروری 2014ء مجھے بات کرنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا بلکہ میں سنی سنائی باتیں کر رہا ہوں۔پھر میرا تعارف ایک احمدی مکرم بدر صاحب سے ہوا جنہوں نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب ”اسلامی اصول کی فلاسفی" دی۔میں نے یہ کتاب اُس وقت تک نہ رکھی جب تک مکمل نہ پڑھ لی۔میں نے محسوس کیا کہ اس شخص کے انگ انگ میں اسلام سمایا ہوا ہے۔یہ سنا سنایا ہوا اسلام نقل نہیں کر رہا بلکہ اس نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا ہے۔یہ ضرور کوئی خدا کا مقرب انسان ہے۔اس کتاب میں جس موضوع نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ وحی الہی اور اُس کا غیر منقطع ہونا ہے کیونکہ کوئی چھ ماہ قبل میں نے ایک رؤیاد دیکھا تھا کہ جیسے میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں اور خدا تعالیٰ کا نور پھیلا ہوا ہے۔اُس وقت اللہ تعالیٰ مجھے فرماتا ہے۔اَعْطَيْتُكَ الدِّرْعَ الواقع یعنی میں نے تجھے محفوظ رکھنے والی زرہ عطا کی ہے۔مجھے اس کی سمجھ نہیں آئی اور خدا تعالیٰ سے شرم کے سبب میں نے انہیں نہیں پوچھا بلکہ عرض کیا کہ سمعا وَ طَاعَتًا۔اس پر ایک فرشتہ نظر آیا جو جنگجو لگتا تھا اور اُس نے اسلحہ وغیرہ زیب تن کیا ہوا تھا۔اس فرشتے نے مجھے کہا کہ اپنے دوست باسط سے کہو کہ لا إلهَ إِلَّا اللہ کے ساتھ چمٹ جاؤ۔اس کے بعد میں نے حضور علیہ السلام کی تمام عربی کتب پڑھ لیں اور بہت فائدہ اُٹھایا۔آپ کے کلام نے مجھ پر جادو کا سا اثر کیا۔اس کے بعد میں نے استخارہ کیا تو ایک دفعہ مجھے یہ آیت سنائی دی۔عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا آتَيْنَهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَهُ مِنْ عِلْمًا - (الكهف : 66) پھر دوسری دفعہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔میرے پوچھنے پر ترنا آپ نے فرمایا کہ اس زمانے کے فتنوں سے بچنے کے لئے صرف مرزا غلام احمد ہی سفینہ نجات ہیں۔پھر بعض نشانات دیکھ کر افریقہ کے جو مختلف لوگ ہیں (ان کے کچھ واقعات بیان کرتا ہوں)۔ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ سرکٹ مبلغ عبد المالک اپنے دو ساتھیوں مونسے (Monsie) نامی قصبہ میں تبلیغ کے لئے گئے۔قصبے کے نوجوانوں نے تبلیغ کی جگہ پر خوب شور شرابا کیا جن پر اُن کو تبلیغی نشست بند کرنا پڑی۔اگلے دن قصبے کے لوگ اپنے ایک پروگرام کے تحت ایک جگہ اکٹھے ہوئے۔اچانک تیز ہوا شروع ہوئی۔بظاہر بارش کا کوئی امکان نہ تھا کہ اچانک گھنے بادل آئے اور بڑی تیز آندھی چلی۔موسلا دھار بارش ہوئی اور اُن کا سارا پروگرام خراب ہو گیا۔اس واقعہ پر قصبہ کے لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ طوفان خدا کے غضب کا نشان تھا جو احمدیوں کو تبلیغ سے روکنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوا ہے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں اکتالیس افراد نے احمدیت میں شمولیت اختیار کر لی۔پھر نائیجیریا کی ایک رپورٹ ہے کہ وہاں اورد ولو (Odulu) گاؤں اور اس کے اردگرد تبلیغ کر