خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد 12 96 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء ہرزہ سرائی کے ایم ٹی اے العربیہ کا ہو کر رہ گیا تھا۔ایک دن میں الحوار دیکھ رہا تھا کہ اس میں وقفے کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ عربی قصیدہ آگیا۔عِلْمِي مِنَ الرَّحْمَنِ ذِي الْأَلاء بِاللهِ حُزْتُ الْفَضْلَ لَا بِدَهَاءِ انجام آتھم ، روحانی خزائن جلد 11 صفحہ 282-266) میں یہ قصیدہ سننے کے ساتھ ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو بھی دیکھتا جاتا تھا۔یہاں تک کہ ایک بے اختیاری کے عالم میں میرے منہ سے بلند آواز سے یہ کلمات نکلے کہ خدا کی قسم ! یہ بات کوئی جھوٹا ہر گز نہیں کہہ سکتا۔یہ شخص لازمی خدا کا فرستادہ ہے۔ایسا کلام خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول کی بے حرمتی کرنے والا نہیں ہو سکتا۔پھر مراکش کے ایک خالد صاحب ہیں ، وہ کہتے ہیں۔احمدیت سے تعارف کے بعد مجھے اس بات سے کسی قدر حیرت بھی ہوئی کہ امام مہدی آکر چلا بھی گیا اور ہم اب اُن کے بارے میں سن رہے ہیں۔سوچ سوچ کر میں نے خدا تعالیٰ سے رہنمائی کی دعا کی اور جماعت کی عربی ویب سائٹ پر موجود کتب کا مطالعہ شروع کر دیا۔سب سے پہلی کتاب جو میں نے پڑھی وہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا عربی ترجمہ تھا جسے میں نے کئی مرتبہ پڑھا۔اس کتاب میں عدل و احسان اور ایتائی ذی القربی کا مضمون پڑھ کر میری روح بھی وجد کر نے لگی۔اس کے بعد میں نے التبلیغ ، پڑھی اور دیگر کتب کا مطالعہ کیا۔ان کتب نے روحانی دقائق اور دینی معارف کے ایسے دریا بہائے کہ اکثر میری زبان پر یہ فقرہ آتا تھا کہ مجھے خزانہ مل گیا ہے۔ہمارے ایک صاحب حمادہ صاحب ہیں اُن کے بارے میں ہانی طاہر صاحب لکھتے ہیں کہ ہماری ویب سائٹ پر انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مریم بننے اور پھر اس مریم میں نفخ روح کے بارے میں پوچھا تھا۔اس پر اُن سے رابطہ کیا گیا اور کچھ مضامین اور حضور علیہ السلام کے اقتباسات بھجوائے گئے جن سے وہ بہت متاثر ہوئے اور حقیقت پاگئے۔وہ لکھتے ہیں کہ حضور علیہ السلام کی کتاب التبلیغ نے میرا سینہ کھول دیا اور مجھے حیرت آمیز خوشی ہوئی کہ اس زمانے میں بھی انبیاء کا پر نور کلام مجھے پڑھنے کو ملا۔اپنے سابقہ شکوک وشبہات پر افسوس بھی ہوا۔یمن کے ایک صاحب حطامی صاحب ہیں ، کہتے ہیں کہ ایک صحافی اور ایک محقق ہونے کے ناطے