خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد 12 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 فروری 2014ء ہونے کے بعد میں نے بیعت کر لی۔پھر الجزائر سے حجاز صاحب ہیں۔کہتے ہیں کہ مسخ شدہ اسلامی تعلیم اور قرآن کریم کی غلط تفاسیر سے بالکل مایوس ہو چکا تھا۔علماء کی تشریحات سن کر سوچتا تھا کہ کیا یہ خدا کا کلام ہوسکتا ہے؟ یہاں تک کہ اردن کے احمدی دوست کے ذریعہ احمدیت اور بانی سلسلہ کی تحریرات سے آگاہی ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تفسیر پڑھنے سے قبل نوافل پڑھ کر دعا کی کہ اللہ تعالیٰ راہِ راست کی طرف رہنمائی فرمائے۔جیسے جیسے پڑھتا گیا سینہ کھلتا گیا اور اس کلام کی ہیبت سے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی اور یقین ہو گیا کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں بلکہ یہ الہی وحی ہے۔پھر فر اس صاحب ابو ظہبی سے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جس قدر کتابیں مجھے مہیا ہو سکیں اُن کے مطالعہ سے نیز ایم ٹی اے کے پروگرام ” الحوار المباشر“ کو با قاعدگی سے دیکھنے سے مجھے جماعتی عقائد پر اطلاع ہوئی۔شروع میں تو جہالت اور گزشتہ خیالات کی وجہ سے میں نے فوری منفی رد عمل ظاہر کیا لیکن جب قرآنی آیات و احادیث اور خدائی سنت کا بغور مطالعہ کیا تو میرا دل مطمئن ہونے لگا۔اب میرے سامنے دور استے ہو گئے۔یا تو میں مسلسل حضرت عیسی بن مریم کے آسمان سے نزول کا انتظار کئے جاؤں اور اس سے قبل دجال کا انتظار، جس کی بعض ایسی صفات بیان کی گئی ہیں جو صرف خدا تعالیٰ کو زیبا ہیں ، جیسے احیائے موتی وغیرہ اور پھر جن بھوتوں کے قصے اور قرآن کریم میں ناسخ و منسوخ کے عقیدے سے چمٹا رہوں۔یا پھر حضرت احمد علیہ السلام کو مسیح موعود اور امام مہدی مان لوں جنہوں نے اسلام کو خرافات سے پاک فرمایا ہے اور اسلام کے حسین چہرے کو نکھار کر پیش فرمایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی دفاع فرمایا ہے۔خیر کہتے ہیں، بہر حال میں نے خدا تعالیٰ سے مدد چاہی اور بہت دعا کی کہ وہ میری رہنمائی فرمائے اور حق اور اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔چنانچہ میں نے جماعت احمدیہ اور حضرت احمد علیہ السلام کی طرف ایک دلی میلان محسوس کیا۔پھر کہتے ہیں کہ میں نے قانون پڑھا ہوا ہے۔جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار سنے تو میرا جسم کانپنے لگا اور آنکھوں میں آنسو امڈ آئے اور میں نے زور سے کہا کہ ایسے شعر کوئی مفتری نہیں کہہ سکتا۔ایک مفتری کے سینے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت کیسے ہو سکتی ہے۔پھر ایک عجمی کا اتناقوی اور فصیح و بلیغ عربی زبان کا استعمال کرنا بغیر خدائی تائید کے ناممکن ہے۔پھر عباس صاحب ہیں جو اٹلی میں رہتے ہیں۔عرب ہیں۔کہتے ہیں کہ میں باوجود مولویوں کی۔