خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 230
خطبات مسرور جلد 12 230 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اپریل 2014ء ہوگئی اور وہ سارا جماعت کا ہی لٹریچر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پر ہی بنیا درکھتا ہے۔تو اس کے بعد وہ ان کو (شاہ صاحب کو) کہنے لگے کہ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب ایک کلمہ مخالفت کا مجھ سے آپ نہیں نہیں گے۔آپ کے خیالات سراسر اسلامی ہیں اور آپ آزادی سے تبلیغ کریں اور پوچھنے والوں سے میں آپ کے حق میں اچھی بات ہی کہوں گا لیکن میں آپ کے فرقے میں داخل نہیں ہوں گا۔آخری دم تک وہ جماعت کی تعریف کرتے رہے۔“ (ماخوذ از سیرت حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب۔صفحہ 27-29) اب میں خطبہ الہامیہ کے بعض اقتباسات پیش کرتا ہوں جس سے اس کی جیسا کہ میں نے کہا عظمت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے۔اصل تو پورا پڑھیں گے تو پتا لگے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام 66 عربی میں فرماتے ہیں کہ أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي أَنَا الْمَسِيحُ الْمُحَمَّدِى وَإِنِّي أَنَا أَحْمَدُنِ الْمَهْدِى وَإِنَّ رَبِّي مَعِيَ إلى يَوْمِ تَحْدِى مِنْ يَوْمِ مَهْدِى وَإِنِّي أُعْطِيتُ صِرَامًا أَكَلًا وَمَاءَ زُلَالًا وَأَنَا كَوْكَبٌ يَمَانِي وَوَابِلٌ رُوحَانِي ابْذَائِي سِنَانٌ مُنَرَّبْ وَدُعَائِي دَوَاءُ مُجَرَّبْ أُرِى قَوْمًا جَلَالًا۔وَقَوْمًا أَخَرِيْنَ جَمَالًا وَبِيَدِى حَرْبَةٌ أَبِيدُ بِهَا عَادَاتِ الظُّلْمِ وَالذُّنُوبِ۔وَفِي الْأُخْرَى شُرْبَةٌ أُعِيْدُ بِهَا حَيَاةَ الْقُلُوبِ “ (یعنی) اے لوگو! میں وہ مسیح ہوں کہ جو محمدی سلسلہ میں سے ہے اور میں احمد مہدی ہوں اور سچ سچ میرا رب میرے ساتھ ہے۔میرے بچپن سے لے کر میری لحد تک۔اور مجھ کو وہ آگ ملی ہے جو کھا جانے والی ہے اور وہ پانی جو میٹھا ہے اور میں یمانی ستارہ ہوں اور روحانی بارش ہوں۔میرا رنج دینا تیز نیزہ ہے اور میری دعا مجرب دوا ہے۔ایک قوم کو میں اپنا جلال دکھاتا ہوں اور دوسری قوم کو جمال دکھاتا ہوں۔اور میرے ہاتھ میں ہتھیار ہے اس کے ساتھ میں ظلم اور گناہ کی عادتوں کو ہلاک کرتا ہوں اور دوسرے ہاتھ میں شربت ہے جس سے میں دلوں کو دوبارہ زندہ کرتا ہوں۔“ پھر آپ فرماتے ہیں۔(خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد 16 صفحه 61-62) أيُّهَا النَّاسُ قُومُوا لِلهِ زَرَافَاتٍ وَفُرَادَى فُرَادَى ثُمَّ اتَّقُوا اللهَ وَفَكَّرُوا كَالَّذِي مَا بَخِلَ وَمَا عَادَى أَلَيْسَ هَذَا الْوَقْتُ وَقتَ رُحْمِ اللهَ عَلَى الْعِبَادِ وَوَقْتَ دَفْعِ