خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 106
خطبات مسرور جلد 12 106 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014 ء بمطابق 21 تبلیغ 1393 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کل یعنی گزشتہ کل 20 فروری کا دن گزرا ہے۔یہ دن جماعت میں مصلح موعود کی پیشگوئی کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک بیٹے کے پیدا ہونے کی خبر دی تھی جو نیک ، صالح اور بہت سی صفات کا حامل ہونا تھا۔گزشتہ جمعہ کو بھی میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نشانات کے حوالے سے ذکر کیا تھا، آج بھی میں نے یہی مناسب سمجھا کہ 20 فروری کے قریب کا جمعہ ہے اس وجہ سے اس پیشگوئی کا ذکر کروں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عظیم الشان نشان قرار دیا ہے۔معترضین کے جواب میں آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ تم اعتراض تو کرتے ہولیکن یہ بشری طاقتوں سے بالا تر ہے کہ ایسی پیشگوئی کی جائے۔اور صرف بیٹا ہونے کی پیشگوئی نہیں کی جارہی بلکہ ایسی صفات کا حامل بیٹا ہونے کی پیشگوئی کی جارہی ہے ) جو لمبی عمر پانے والا بھی ہو گا اور جو آپ کی زندگی میں پیدا ہو گا۔آپ نے فرمایا کہ اگر اس اعلان کو گہری اور انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کے نشانِ الہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہو سکتا۔آپ نے معترضین کو فرمایا کہ اگر شک ہو تو اس قسم کی پیشگوئی جو ایسے ہی نشان پر مشتمل ہو ، پیش کرو۔فرمایا: اس جگہ آنکھیں کھول کر دیکھ لینا چاہئے کہ یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشان آسمانی ہے۔اور جیسا کہ آپ کی بعثت کا مقصد ہی اسلام کی حقانیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت سب پر ثابت کرنا تھا۔یہاں بھی آپ اس پیشگوئی اور نشان کو پیش فرما کر یہ نہیں فرمار ہے کہ یہ میری