خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 107
خطبات مسرور جلد 12 107 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 فروری 2014ء صداقت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ فرمایا کہ اس نشانِ آسمانی کو خدائے کریم جل شانہ نے ہمارے نبی کریم، رؤوف الرحیم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لئے ظاہر فرمایا ہے۔اور فرمایا اور در حقیقت یہ نشان ایک مردہ زندہ کرنے سے صدر با درجہ اعلیٰ اولیٰ و اکمل وافضل واتم ہے۔آپ نے وضاحت فرمائی کہ مردہ زندہ کرنا تو صرف اتنا ہی ہے کہ ایک روح تھوڑے عرصے کے لئے واپس منگوالی، جیسا کہ بائبل میں حضرت عیسی علیہ السلام یا بعض انبیاء کے بارے میں لکھا گیا ہے۔گو اس پر بھی اعتراض کرنے والوں کے اعتراض موجود ہیں۔اور کسی مردہ کا زندہ ہونا اگر مان بھی لیا جائے تو اس سے دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا تھا۔مگر یہاں بفضلہ تعالیٰ و احسانہ برکت حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خداوند کریم نے اس عاجز کی دعا قبول کر کے ایسی بابرکت روح بھیجنے کا وعدہ فرمایا ہے جس کی ظاہری و باطنی برکتیں تمام زمین پر پھیلیں گی۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 99 اشتہار نمبر 34 مطبوعہ ربوہ) آپ فرماتے ہیں کہ ”اے لوگو! میں کیا چیز ہوں اور کیا حقیقت؟ جو کوئی مجھ پر حملہ کرتا ہے وہ در حقیقت میرے پاک متبوع پر جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے، حملہ کرنا چاہتا ہے۔مگر اُس کو یاد رکھنا چاہئے ، وہ آفتاب پر خاک نہیں ڈال سکتا بلکہ وہی خاک اُس کے سر پر ، اُس کی آنکھوں پر، اُس کے منہ پر گر کر اُس کو ذلیل اور رسوا کرے گی۔اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و شوکت اُس کی عداوت اور اُس کے بخل سے کم نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ ظاہر کرے گا۔کیا تم فجر کے قریب آفتاب کو نکلنے سے روک سکتے ہو۔ایسے ہی تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آفتاب صداقت کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔خدا تعالیٰ تمہارے کینوں اور بخلوں کو دور کرے“۔( مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 100 اشتہار نمبر 34 مطبوعہ ربوہ) ان اعتراض کرنے والوں میں غیر مسلموں کے ساتھ بعض مسلمان بھی شامل تھے جن کو آپ نے یہ چیلنج دیا اور تنبیہ بھی فرمائی۔بہر حال اس پیشگوئی کے تحت جیسا کہ ہم جانتے ہیں 1889ء میں جنوری میں وہ موعود بیٹا پیدا ہوا جس نے اسلام کی برتری اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و شوکت کو قائم کرنے کے لئے وہ کار ہائے نمایاں انجام دیئے جو رہتی دنیا تک یادر کھے جائیں گے اور جن کا غیروں نے بھی اعتراف کیا۔اس سے پہلے کہ میں حضرت مصلح موعود کے بعض کارناموں کا ذکر کروں، پیشگوئی کے اصل الفاظ بھی آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ ان کے بار بار ہمارے سامنے آنے سے ہمیں اس کی