خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 385

خطبات مسرور جلد 11 385 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 جولائی 2013ء اُن سے باتیں کر کے سمجھ آئی جو میرا بیٹا کہتا تھا درست تھا۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے پھر بیعت کرلی۔بوسنیا کے ایک اور دوست ہیں۔وہ کہتے ہیں یہاں جلسہ پر آ کے تو میرے پر ایک خاص اثر ہوا ہے۔دعا کریں کہ جب میں واپس جاؤں تو یہ اثر قائم رہے۔اسی طرح قرغزستان کے ایک اور دوست تھے۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں جلسہ پر مجھے عجیب نظارہ نظر آیا اور پھر انہوں نے بڑی محبت سے مجھے کہا کہ بڑے عرصے سے میں نے بیعت کی تھی اور کچھ سال پہلے میں حج کے لئے گیا تھا اور آب زمزم وہاں سے لے کے آیا تھا اور سوچا تھا کہ جب بھی خلیفہ وقت سے ملاقات ہوگی تو دوں گا۔چنانچہ انہوں نے اپنی محبت کا اظہار کیا اور وہ پانی مجھے دیا۔اسی طرح ایک الجزائری دوست تھے۔انہوں نے بھی کہا کہ دو افراد ایسے تھے جو مہاجرین کو تبلیغ کر رہے تھے۔میں نے ان کی باتوں میں امام مہدی کے آنے کی خبر سنی تو سخت برہم ہوا اور بے اختیار کہنے لگا کہ ان شیاطین کے آنے سے یہاں پر موجود فرشتے چلے گئے ہیں۔کہتے ہیں شروع شروع میں تو اُن کے ساتھ میری گفتگو تمسخرانہ تھی لیکن محسوس ہونے لگا کہ میری ہر بات اُن کے سامنے غلط ثابت ہوتی ہے جبکہ اُن کے پاس ان کے ہر دعوے کی قوی دلیل تھی۔مجبور ہو کر میں نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کسی مولوی سے رہنمائی لیتا ہوں۔یہ سوچ کر میں نے ایک معروف عربی چینل سے رابطہ کیا۔کہتے ہیں پہلے میں اس چینل پر مختلف سوالات اور فتاویٰ کے لئے فون کیا کرتا تھا تو کئی بار فون کرنے کے بعد ہمیں کوئی مناسب جواب ملتا تھا۔اب جب میں نے جماعت احمدیہ کے بارے میں فون کیا تو انہوں نے کہا کہ تم فون رکھو ہم خود تمہیں فون کرتے ہیں۔اور پھر انہوں نے ہمیں فون کر کے کہا کہ احمدی تو پکے کافر ہیں، ان سے بیچ کے رہو۔یہی نہیں بلکہ اب تقریباً ہر روز تین چار دفعہ اس چینل کی طرف سے ہمیں فون آنے لگا اور ہر بار ہمیں جماعت کے کفر کے بارے میں فتویٰ سنایا جاتا۔کہتا ہے کہ جب افراد جماعت کی بات سنتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ یہی سچی جماعت ہے۔لیکن مولویوں کے فتوے سنتا تو جماعت کے بارے میں شک میں پڑ جا تا۔پھر کتب اور عربی ویب سائٹ پر مواد کا مطالعہ کرتا رہا جس کی وجہ سے حق واضح ہو گیا۔اور جلسہ پر آنے کی مجھے دعوت دی۔یہاں جب میں نے دیکھا کہ مختلف قومیتوں کے لوگ ہیں تو میں نے سوچا کہ کیا میں ہی سچا ہوں ، یہ سب جھوٹے ہیں۔اس کے بعد دلی اطمینان ہوا اور بیعت کر لی۔پھر نائیجر سے ہی ایک دوست تھے ابوزیدی صاحب۔کہتے ہیں کہ جلسہ میں آنے سے قبل میں