خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 360
خطبات مسرور جلد 11 360 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء 66 غریبوں سے سلوک کرتا ہے، ہمسایوں پر رحم کرتا ہے ، شرارت نہیں کرتا، جھوٹے مقدمات نہیں بناتا، جھوٹی گواہیاں نہیں دیتا، بلکہ دل کو پاک کرتا ہے اور خدا کی طرف مشغول ہوتا ہے اور خدا کا ولی کہلاتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 612۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے سچائی پر قائم رہنے والا بنائے۔ہم اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے حکموں کی کامل اطاعت کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے۔ہمیشہ ہمارے سے وہ اعمال سرزد ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو ہم جذب کرنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے، ہم حقیقت میں اُس مقصد کو حاصل کرنے والے بھی ہوں اور آپ کے مددگار بھی ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر ہمیشہ ہم پر رہے۔آج بھی ایک افسوسناک خبر ہے۔لاہور پاکستان میں ، ہمارے ایک احمدی بھائی کو شہید کر دیا گیا ہے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ان کے کچھ کو ائف پیش کرتا ہوں پھر نماز جنازہ بھی انشاء اللہ جمعہ کے بعد پڑھاؤں گا۔ان شہید بھائی کا نام مکرم جواد کریم صاحب ہے جو مکرم کریم احمد دہلوی صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔گرین ٹاؤن ضلع لاہور میں رہتے تھے۔17 جون کو چار نا معلوم افراد نے مکرم جواد کریم صاحب ابن مکرم کریم احمد صاحب کے گھر کے اندر گھس کر فائرنگ کر کے ان کو شہید کر دیا۔انا للہ وانا إلَيْهِ رَاجِعُونَ جو تفصیلات ہیں ان کے مطابق یہ گرین ٹاؤن لاہور میں اپنے مکان کی اوپر کی منزل میں رہائش پذیر تھے اور نچلی منزل میں ان کے بڑے بھائی امتیاز عدنان صاحب رہتے تھے اور والدہ بھی رہتی تھیں۔کہتے ہیں رات تقریباً پونے آٹھ بجے کے قریب چار نامعلوم افراد گھر میں آئے۔دو باہر کھڑے رہے اور دو اندر گیراج میں چلے گئے اور وہاں شاید انہوں نے کریم صاحب کو بلایا۔بہر حال گیراج والوں کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوگئی۔اسی اثناء میں ایک حملہ آور نے ان پر فائز کیا اور گولی دل پر لگی اور آر پار ہو گئی۔شور سن کے ان کے بھائی بھی جو نچلی منزل میں تھے ، باہر نکلے تو حملہ آوروں نے ہوائی فائر کیا اور یہ کہتے ہوئے کہ اب تمہاری باری ہے وہاں سے چلے گئے ، فرار ہو گئے۔ہسپتال لے جایا گیا لیکن اس سے پہلے راستے میں ہی انہوں نے جام شہادت نوش فرمالیا۔شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذان کے پڑنا نا حضرت حکیم محمد حسین صاحب آف بلوگر دہلی بھارت کی بیعت سے ہوا تھا جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ہاتھ پر