خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 361
خطبات مسرور جلد 11 361 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 جون 2013ء بیعت کی تھی اور اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔ان کے پڑ دادا اعجاز حسین صاحب مرحوم نے خط کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی لیکن دستی بیعت کا شرف حاصل نہیں ہوا تھا۔اس طرح ان کے جو پڑ نانا تھے وہ صحابی تھے۔ان کے دادا مکرم بابونذیر احمد صاحب دہلی میں لمبا عرصہ امیر جماعت رہے ہیں۔شہید مرحوم کی عمر تینتیس سال تھی۔وصیت کے بابرکت نظام میں شامل تھے۔اپنا کاروبار کرتے تھے۔ان کی اہلیہ ڈاکٹر ہیں ، ان کا اپنا کلینک ہے۔کلینک کے انتظامی معاملات بھی شہید مرحوم کے ہی سپر د تھے۔انتہائی نرم طبیعت کے مالک تھے۔چھوٹوں بڑوں کا ادب کرنے کا ان میں خاص امتیاز تھا۔مخلص انسان تھے۔ہر کسی سے تعاون کرتے تھے۔ہر کسی کے دکھ درد میں شریک ہوتے تھے۔جماعتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ان کا گھر لمبے عرصے تک نماز سینٹر بھی رہا۔چھوٹی عمر سے ہی زعیم حلقہ تھے ، پھر مقامی طور پر بھی اور ضلع کی حیثیت میں بھی خدام الاحمدیہ کے کام کرتے رہے۔والدہ مرحومہ نے شہادت کے دن ذکر کیا کہ جواد کریم نے اپنا ایک خواب مجھے سنایا تھا کہ چند لوگ مجھے ماررہے ہیں اور بڑا بھائی میرے پاس کھڑا ہے، مجھے نہیں بچاتا۔تو موقع پر بھی اس طرح ہی ہوا کہ جب ان پر فائرنگ ہورہی تھی بڑا بھائی باہر نکلا اور بچا نہیں سکا۔ایک لحاظ سے اس طرح بھی خواب پوری ہوگئی۔چندہ کے معاملے میں بھی بہت کھلے دل کے تھے اور دوسروں کو بھی تحریک کیا کرتے تھے۔اپنے بھائی کو شہادت سے ایک دن قبل کہا کہ یا درکھو کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو میرا حساب کتاب صاف ہے اور میں بقایا دار نہیں ہوں۔میں نے سارا حساب صاف کر دیا ہے۔صدر صاحب حلقہ کہتے ہیں کہ ہمارے حلقے کے ایک ممبر جو چندے کی ادائیگی میں ذراست تھے ، شہید مرحوم نے مسلسل ان سے رابطہ رکھا اور نہ صرف ان کو چندے کے معاملے میں چست کیا بلکہ نظام وصیت میں بھی شامل کروایا۔شہید مرحوم کی اہلیہ محترمہ ہیں اور تین چھوٹے بچے ہیں، جن کی عمریں یہ ہیں، بیٹی ہے صبتہ الجواد، چھ سال کی ہے۔اور طلحہ جواد تین سال، اور صفوان جواد چار ماہ۔ان کے ایک بھائی ہیں۔شہادت کے وقت ان کی والدہ زندہ تھیں لیکن تدفین کے لئے جب ان کا جنازہ ربوہ لے جایا گیا تو پیچھے سے والدہ کو بھی ہارٹ اٹیک ہوا۔اُن کی بھی وفات ہوگئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ رضیہ کریم دہلوی صاحبہ جو حکیم محمد احمد دہلوی صاحب مرحوم کی صاحبزادی تھیں، شہید مرحوم بیٹے کی شہادت کے کچھ دیر بعد ، جب ربوہ جنازہ پر گئے ہوئے تھے، ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کی بھی وفات ہو گئی۔رضیہ کریم صاحبہ کے والدین دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔پہلے خانیوال میں رہے، پھر