خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 137
خطبات مسرور جلد 11 137 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء فرماتا ہے کہ حقیقی مومنین کی یہ نشانی ہے کہ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (الفتح : 30) آپس میں بے انتہا رحم ، ملاطفت اور نرمی کرنے والے ہیں۔اس حکم کی یا مومنین کی نشانی کی ، جیسا کہ میں نے کہا، مذہب اور اسلام کے نام پر جس طرح پامالی ہو رہی ہے وہ کسی ایک ملک میں نہیں بلکہ تقریبا تمام مسلم دنیا میں یہی چیز ہمیں نظر آتی ہے۔کہیں کم ہے کہیں زیادہ ہے۔اس لئے کہ ہر ایک کے ذاتی مفادات اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش پر حاوی ہو گئے ہیں۔پاکستان کی حالت دیکھ لیں۔درجنوں روزانہ قتل ہو رہے ہیں۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کر رہا ہے۔اگر گزشتہ چند سالوں کی قتل و غارت کی تعداد جو آپس کی لڑائیوں اور حملوں کی وجہ سے ہوئی ہے ان کو جمع کیا جائے تو ہزاروں میں ان کی تعداد پہنچ جاتی ہے۔اس وقت میرے پاس اس کے حقیقی اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن اخباروں سے پڑھنے سے پتہ لگتا ہے کہ روزانہ درجنوں میں قتل ہورہے ہیں۔اور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ ہر سال خودکش بموں سے سینکڑوں بلکہ شاید سینٹڑوں سے بھی تعداد آگے نکلے۔ہزاروں میں پہنچ گئی ہے۔لوگ مارے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ خدا کے نام پر اور دین کے نام پر ہورہا ہے۔کیونکہ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ (الفتح : 30) سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ایک خصوصیت بھی بتائی ہے کہ آشدا عَلَى الْكُفَّارِ (الفتح : 30) کہ کفار کے خلاف جوش رکھتے ہیں، اُن کے لئے سختی ہے۔اس لئے علماء سمجھتے ہیں کہ اپنی مرضی سے کسی کو بھی کافر بنا کر اُس کے خلاف جو چاہے کر لو۔ہمیں لائسنس مل گیا۔جب ایسی سوچ ہو جائے ، ایسے معیار ہو جائیں تو کفر کے فتوے لگانے والے خود اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے حکموں کے مطابق کفر کے فتوے کے نیچے آ جاتے ہیں۔بہر حال پاکستان میں اس لحاظ سے ابھی بظاہر امن کی حالت ہے کہ حکومت اور عوام کی لڑائی نہیں ہے لیکن جن ملکوں میں جنگ کی حالت ہے وہاں جہاں دشمن فوجوں نے بھی ظلم و بربریت کی ہے، وہاں خود مسلمان بھی مسلمان کو مار رہے ہیں۔مثلاً افغانستان کا جائزہ لیں تو وہاں مسلمانوں نے ہی ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی اور خود کش حملے یا عام حملے شروع کئے ہوئے ہیں۔افغانستان میں کہا جاتا ہے گزشتہ دس سال میں اس وجہ سے تقریباً پچاس ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ان میں غیر ملکی فوجی کم ہیں جو مرے بلکہ فوجی چاہے وہ افغانی بھی ہوں کم ہیں۔شہریوں کی موتوں کی تعداد زیادہ ہے جو معصوم گھروں میں بیٹھے یا بازاروں میں پھرتے اپنے ہی لوگوں کی بربریت کا نشانہ بن رہے ہیں۔شام میں، سیر یا (Syria) میں تو خالصہ مسلمان ہی ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور کہا جاتا ہے ( یہ بڑا محتاط اندازہ