خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 138
خطبات مسرور جلد 11 138 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء ہے کہ ستر ہزار لوگ اب تک مارے جاچکے ہیں۔اکثریت معصوم شہریوں کی ہے۔مصر میں انقلاب لانے کے بہانے ہزاروں قتل کئے گئے ، لیبیا میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور ابھی تک مارے جا رہے ہیں۔عراق میں 2003 ء سے اب تک کہا جاتا ہے کہ چھ لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے ہیں۔جنگ بندی کے بعد بھی ابھی تک خود کش حملوں کے ذریعہ سے عراق میں مارے جا رہے ہیں۔یا ویسے بھی آپس میں لڑائی سے مارے جارہے ہیں۔اب اخباروں میں یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ مسلمان ممالک، باہر کی دوسری حکومتیں بھی طاغوتی اور شیطانی طاقتوں یا قوتوں کا آلہ کار بن کر آپس میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔مثلاً دودن پہلے شام کے حوالے سے یہ خبر آئی تھی کہ سعودی عرب یورپ کے ایک ملک سے اسلحہ لے کر شام میں جو مخالفین کا حکومت مخالف گروپ ہے، اُس کو سپلائی کر رہا ہے اور ان لوگوں میں شدت پسند لوگ بھی شامل ہیں۔اگر ان کو حکومت مل گئی تو عوام مزید ظلم کی چکی میں پسیں گے۔مصر میں بھی آجکل لوگ یہ نظارے دیکھ رہے ہیں۔نہ صرف ملک کے عوام بلکہ علاقے کا امن بھی برباد ہو گا۔اور یہی نہیں بلکہ پھر یہ آیشا علی الكُفَّارِ (الفتح : 30) کے نام پر دنیا کا امن بھی برباد کرنے کی کوشش کریں گے۔اگر مسلمان ممالک کسی ملک میں ظلم ہوتا دیکھ رہے ہیں تو صحیح اسلامی طریق تو یہ ہے کہ اسلامی ممالک کی تنظیم بات چیت کے ذریعہ سے غیروں کو بیچ میں ڈالے بغیر امن اور عوام کے حقوق کی کوشش کرتی اور یہ کر سکتی تھی۔اگر شام میں پہلے علوی سُنیوں پر ظلم کر رہے تھے تو اب اُس کا الٹ ہو رہا ہے اور اس وجہ سے مسلمان ملکوں کے آپس میں دو بلاک بھی بن رہے ہیں جو خطے کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔اب اگر عالمی جنگ ہوتی ہے تو اس کی ابتدا مشرقی ممالک سے ہی ہوگی جو گزشتہ جنگوں کی طرح یورپ سے نہیں ہو گی۔پس مسلمان ملکوں کو اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہئے۔کاش کہ یہ لوگ اور حکومتیں بھی اور علماء بھی اور سیاستدان بھی قرآنِ کریم کے اس حکم پر عمل کرنے والے ہوتے۔جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الحجرات: (11) کہ مومن تو بھائی بھائی ہوتے ہیں۔پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔یہ لوگ تقویٰ اختیار کرتے تا کہ آپس کے رحم کے جذبات کی وجہ سے رُحَما بَینَہم کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے رحم سے بھی یہ حصہ لیتے۔اللہ تعالیٰ نے جہاں مسلمانوں کو رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کا حکم فرمایا ہے تو اس آیت کے آخر پر یہ بھی فرمایا ہے کہ اجر عظیم کا وعدہ اُن لوگوں سے ہے، اُن مومنوں سے ہے جو نیک اعمال بجالاتے ہیں قتل وغارت کی یہ کیفیت جو میں نے بیان کی یہ ان ملکوں کی ہے جہاں بغاوت یا نام نہاد جنگ