خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 93 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 93

خطبات مسرور جلد 11 93 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء پھر کہتے ہیں بہت ساری خواہیں میں نے دیکھیں۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے پلاؤ کھلایا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حلوہ دیا کہ تقسیم کرو۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے بھی اور ساتھ بھی نماز پڑھی۔حضور کو پانی پلایا۔حضور ایک ٹیلے پر کھڑے تھے اور میں گڑھے میں تھا۔حضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر اپنے ساتھ کھڑا کر لیا۔ایسا ہی حضور پھول چن رہے تھے۔میں نے بھی چن کر حضور کو دیئے۔کہتے ہیں ایسے ہی میں نے حج کیا، مکہ مکرمہ کو دیکھا۔طواف کعبہ کیا اور طواف کے بعد بیت اللہ میں پھلوں سے لدے ہوئے درخت پیدا ہو گئے۔آم کھجور وغیرہ کے۔یہ نظارے دیکھے۔پھر لکھتے ہیں کہ میرے ابتلاء کا زمانہ ختم ہونے کی خوشخبریاں مجھے ملیں۔کہتے ہیں بعض بزرگوں قاضی عبد اللہ صاحب اور اور دوسرے لوگوں کو بھی میرے بارے میں مبشرات ملیں۔پھر کہتے ہیں کہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے 11 مئی 1936 ء کو آخری نفلی روزے کے دن تہجد کے وقت دیکھا کہ وائسرائے قادیان میں آیا ہے اور میں نے سب ملاقاتیوں میں سے احمدیوں کو پیش پیش رکھا ہے۔یعنی یہ ملاقات کروا ر ہے ہیں اور میں اور مولانا اکٹھے ہیں۔وائسرائے کو خطرہ ہے کہ مولا نا اُسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔میرا وائسرائے سے دوستانہ بے تکلف تعلق ہے۔میں اُس کو پان دے کر کہتا ہوں کہ مولوی صاحب کی طرف سے کوئی خطرہ نہیں۔( یہ مولوی غلام رسول صاحب کی طرف سے خواب تھی ) اُن کی طرف سے میں ذمہ دار ہوں۔ایسا ہی ایک اور شخص نے بھی ان کے بارے میں اچھی خواب دیکھی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 119 - 121 روایات حضرت اللہ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر ) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب ولد شیخ مسیتا صاحب فرماتے ہیں( انہوں نے 1894ء میں بیعت کی کہ اے خدائے ذوالجلال ! جو تیری جھوٹی قسم کھاتا ہے وہ تیری درگاہ میں مردود ومخذول ہو جاتا ہے۔پس میں تیری قدرتوں پر ایمان رکھتا ہوں اور تیری ذات کی قسم کھا تا ہوں کہ تو نے مجھ گناہ گار نا چیز پر یہ بھید کھولے تھے۔اگر میں نے تیری جھوٹی قسم کھائی ہے اور محض جھوٹے الہام یا خواب بنا کر تیری ذات اقدس کی طرف منسوب کئے ہیں تو تو مجھے سزا دینے پر بھی قادر ہے۔میں نے دیکھا (خواب بتاتے ہیں ) کہ کوئی باغ ہے اُس میں ساری جماعت کے احباب موجود ہیں۔اور غرباء ایک طرف ہیں اور امراء ایک طرف ہیں۔امراء نے اپنا لیڈر جناب حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کو مقرر کیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں خواب دیکھ رہے ہیں اور اس خواب کا تعلق حضرت خلیفہ اول کی