خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 92
خطبات مسرور جلد 11 92 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء چھوٹے چھوٹے کنکروں وغیرہ سے پر ہو جایا کرتے ہیں۔( باہر جولوگ سویا کرتے ہیں، اُن کو یہ پتہ ہے ) اس قسم کے بستر کو میں صاف کر رہا ہوں، جھاڑ رہا ہوں اور وہ بستر اخلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معلوم ہوتا ہے۔اس طرح یہ سارا واقعہ میں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا۔اس کی تعبیر انہوں نے یہ فرمائی کہ جو کچھ ہم کو ملا، اُس میں سے تم کو بھی حصہ مل گیا۔حضرت اللہ دتہ صاحب ہیڈ ماسٹر ولد میاں عبدالستار صاحب فرماتے ہیں ( ان کی بیعت 1898ء کی ہے ) کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک زمانے میں مجھے نہایت شاندار نظارہ دکھایا گیا۔جو درحقیقت میری زندگی کی مختلف کیفیات کی خوشخبری تھی۔یعنی حج کے دن بوقت تہجد میں نے دیکھا کہ دو شخص باہم باتیں کرتے ہیں۔ایک نے کہا کہ سنا ہے ادھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یاروں کی شکلیں نظر آتی ہیں ، ( یعنی دوستوں کی ، ساتھیوں کی شکلیں نظر آتی ہیں )۔اُس نے کہا ہاں جہلم کی طرف سے نظر آتی ہیں۔پھر اُس نے کہا یہ دیکھو۔میں نے دیکھا کہ ایک شیش محل ہے جس کے شیشے سیاہ ہیں۔معاوہ براق ہو گئے اور اُس کے اندر چاروں یارانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کرسیوں پر جلوہ پیرا تھے۔( یعنی چاروں خلفاء )۔نہایت شاندار نظارہ تھا۔پھر وہ نظارہ ہٹ کر صرف حضرت عثمان نظر آئے۔پھر وہ بھی نظارہ بدل کر صرف حضرت ابو بکر صدیق نظر آئے۔یہ نظارہ میں نے سیر ہو کر اور اچھی طرح دیکھا۔حضرت صدیق نے مجھے اپنا چہرہ اچھی طرح دکھلایا تو وہ بالکل حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکل تھی۔میرے دل میں خیال آیا کہ یہ تو حضرت خلیفہ مسیح ہیں۔تو الہام ہوا کہ ابو بکر نورالدین کی شکل میں ہے۔اصحاب فوت نہیں ہوں گے جب تک نورالدین کو نہ دیکھیں گے۔میں نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں لکھا۔حضور نے جواباً فرمایا کہ مبشرات میں سے آپ کے رویائے صالحہ ہے۔ایسے ہی مجھے مختلف اوقات میں مبشرات ہوتے رہے۔ایک اس میں یہ بھی تھا۔امن است در مکانِ محبت سرائے ما“ یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے۔یعنی ہماری محبت کے گھر میں رہنے والے کے لئے امن ہے۔پھر کہتے ہیں یہ بھی مجھے الہام ہوتے رہے۔یہ حضرت مسیح موعود کے شعر ہیں کہ اب گیا وقت خزاں آئے ہیں پھل لانے کے دن خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو اک عالم کو اک عالم دکھاتی ہے یہ خوشخبریاں اللہ تعالیٰ اس زمانے سے جماعت کی ترقی کی صحابہ کو دکھا تا آرہا ہے۔