خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 94
خطبات مسرور جلد 11 94 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء خلافت سے ہے۔کہتے ہیں بہر حال مولوی عبد الکریم صاحب کو مقرر کیا۔مجھے میرے غرباء احباب نے اپنا لیڈر مقرر کیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ پہلی تقریر جناب حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کریں گے اور اُن کا جواب مجھ ناچیز کے ذمہ قرار پایا۔حضرت مولانا نے اپنی تقریر میں اپنی خلافت کے دلائل پیش کئے اور میں نے اپنی تقریر میں جناب حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروی کی خلافت کے دلائل دیئے۔دلائل دے کر مولانا کی تقریر کارڈ کیا۔پھر مولانا نے اپنی خلافت کے دلائل بیان کئے۔پھر میں نے اپنی تقریر میں مولانا کے دلائل کا رڈ کیا اور حضرت مولوی نور الدین صاحب کی خلافت کے دلائل بیان کرنے شروع ہی کئے تھے کہ مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک جست ماری ، ( چھلانگ لگائی ) پھر دوسری چھلانگ لگائی اور پھر تیسری چھلانگ لگا کر حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ حضرت! میری بیعت لے لیجئے۔حضرت خلیفہ اول نے مولوی صاحب سے بیعت لی اور آپ بالکل خاموش تنِ تنہا ایک آم کی جڑ میں آم سے کمر لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔میری اس رؤیا کے شاہد جناب شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی اور جناب ماسٹر عبدالرحمن مہر سنگھ صاحب بھی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں یہ رؤیا دیکھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 74-75 از روایات حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب) خلافت سے متعلق یہ رو یا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ سے ہی جماعت میں اللہ تعالیٰ دکھاتا چلا آ رہا ہے۔یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے، بعض لوگ اعتراض کر دیتے ہیں کہ جی آج خواہیں دیکھ لیں، خلیفہ اول کے زمانے سے خوا ہیں اور بہت ساری خوابیں ہیں ، پھر حضرت خلیفہ ثانی کی ، پھر اُسکے بعد۔بہر حال یہ چند خوا نہیں تھیں جو میں نے بیان کیں۔اب جو اگلی بات میں کرنا چاہتا ہوں وہ آج اس وقت سیرالیون اور بنگلہ دیش دو ملک ہیں جہاں ان کے جلسہ سالانہ منعقد ہو رہے ہیں۔سیرالیون کا تو یہی وقت ہے، اس وقت شاید جلسہ ہو رہا ہوگا۔اور بنگلہ دیش میں جلسہ کا جو پہلا دن ہے ہو گیا ہے۔اس سال بنگلہ دیش میں احمدیت کو پہنچے ہوئے ، شروع ہوئے ہوئے ایک سو سال ہو چکا ہے۔جیسا کہ برطانیہ کی جماعت کو بھی اس سال سوسال پورے ہوئے ہیں۔جماعت برطانیہ بھی اپنے جشن تشکر کا پروگرام بنا رہی ہے۔بنگلہ دیشی جماعت نے یہ پروگرام بنائے اور اُن پر کچھ پر عمل بھی ہوا۔جلسہ سالانہ بھی اس پروگرام کا ایک بہت بڑا حصہ تھا بلکہ ہے۔اس لئے انہوں نے اس سال کرایہ پر بڑی وسیع جگہ لے کر ایک سٹیڈیم میں جلسے کا انتظام کیا تھا تا کہ آسانی سے تمام