خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 67
خطبات مسرور جلد 11 67 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جلشانہ اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال دیں گی۔ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ۔میرے پیچھے پیچھے چلنا اختیار کرو۔یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مارو۔تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں رب العالمین کے لئے خالص کرلوں۔یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ رب العالمین ہے میں خادم العالمین بنوں اور ہمہ تن اُسی کا اور اُسی کی راہ کا ہو جاؤں۔سوئیں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کر دیا ہے۔اب کچھ بھی میرا نہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 160 تا 165) یہ حوالہ جو میں نے پڑھا ہے یہ آئینہ کمالات اسلام کا ہے۔پس یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے اور یہ اُسوہ ہے جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا۔اب دیکھیں ہمارے مخالفین کا یہ اُسوہ ہے کہ وہ تو رحمت لے کر آئے تھے اور یہ لوگ کلمہ گوؤں کو بھی اذیتیں پہنچانے والے ہیں۔پھر آپ کے فیض اور نبوت کی وسعت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : موسیٰ اور عیسیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خدا ایک ہی ہے۔تین خدا نہیں ہیں۔مگر مختلف تجلیات کی رُو سے اُسی ایک خدا میں تین شانیں ظاہر ہوگئیں۔چونکہ موسیٰ کی ہمت صرف بنی اسرائیل اور فرعون تک ہی محدود تھی اس لئے موسیٰ پر تجلی قدرت الہی اُسی حد تک محد و در ہی۔اور اگر موسیٰ کی نظر اُس زمانہ اور آئندہ زمانوں کے تمام بنی آدم پر ہوتی تو توریت کی تعلیم بھی ایسی محدود اور ناقص نہ ہوتی جو اب ہے۔ایسا ہی حضرت عیسی کی ہمت صرف یہود کے چند فرقوں تک محدود تھی جو اُن کی نظر کے سامنے تھے اور دوسری قوموں اور آئندہ زمانہ کے ساتھ اُن کی ہمدردی کا کچھ تعلق نہ تھا۔اس لئے قدرت الہی کی تجلتی بھی اُن کے مذہب میں اُسی حد تک محدود رہی جس قدر اُن کی ہمت تھی۔اور آئندہ الہام اور وحی الہی پر مہر لگ گئی۔اور چونکہ انجیل کی تعلیم بھی صرف یہود کی عملی اور اخلاقی خرابیوں کی اصلاح کے لئے تھی ، تمام دنیا کے مفاسد پر نظر نہ تھی اس لئے انجیل بھی عام اصلاح سے قاصر ہے۔بلکہ وہ صرف ان یہودیوں کی موجودہ