خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 66 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 66

خطبات مسرور جلد 11 66 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء یعنی ان کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدو جہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔وہی خدا جو تمام عالموں کا رب ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔اور میں اول المسلمین ہوں۔یعنی دنیا کی ابتدا سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنافی اللہ ہو۔جو خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو۔”خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اُس کو واپس دینے والا ، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپر د جتنے بھی کام کئے ہیں، جو ذمہ داریاں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر د جو فرائض و حقوق تھے ، اُن کی ادائیگی کی جو انتہا ہوسکتی تھی وہ آپ نے فرمائی۔66 فرمایا : '' اس آیت میں اُن نادان موحدوں کا رڈ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو (اول تو حدیث کا پتہ نہیں صحیح ہے کہ نہیں۔لیکن اگر مان لیا جائے کہ میچ بھی ہو ' تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلل ہے جو ہمیشہ ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی۔ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے۔اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص در حقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد اللہ ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔غور سے دیکھنا چاہئے کہ جس حالت میں اللہ جل شانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اول المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آ نحضرت صلحم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کر سکے۔خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔سُبْحَانَ اللهِ مَا أَعْظَمُ شَانُكَ يَا رَسُولَ اللہ فرماتے ہیں، فارسی شعر ہے کہ موسیٰ و عیسی ہمہ حیل تواند جمله درین راه طفیل تواند (یعنی موسیٰ اور عیسی سب تیرے ہی گروہ میں سے ہیں اور سب اس راہ میں تیرے ہی طفیل سے ہیں۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ :