خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد 11 68 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم فروری 2013ء بد اخلاقی کی اصلاح کرتی ہے جو نظر کے سامنے تھے۔اور جو دوسرے ممالک کے رہنے والے یا آئندہ زمانہ کے لوگ ہیں اُن کے حالات سے انجیل کو کچھ سروکار نہیں۔اور اگر انجیل کو تمام فرقوں اور مختلف طبائع کی اصلاح مذنظر ہوتی تو اس کی یہ تعلیم نہ ہوتی جو اب موجود ہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ایک طرف تو انجیل کی تعلیم ہی ناقص تھی اور دوسری طرف خود ایجاد غلطیوں نے بڑا نقصان پہنچایا جو ایک عاجز انسان کو خواہ نخواہ خدا بنایا گیا اور کفارہ کا من گھڑت مسئلہ پیش کر کے عملی اصلاحوں کی کوششوں کا یکلخت دروازہ بند کر دیا گیا۔اب عیسائی قوم دو گونہ بد قسمتی میں مبتلا ہے۔ایک تو اُن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی اور الہام مد نہیں مل سکتی کیونکہ الہام پر جو مہر لگ گئی۔اور دوسری یہ کہ وہ عملی طور پر آگے قدم نہیں بڑھا سکتی کیونکہ کفارہ نے مجاہدات اور سعی اور کوشش سے روک دیا۔مگر جس کامل انسان پر قرآن شریف نازل ہوا اُس کی نظر محدود نہ تھی اور اس کی عام غم خواری اور ہمدردی میں کچھ قصور نہ تھا۔بلکہ کیا باعتبار زمان اور کیا باعتبار مکان ( زمانے کے لحاظ سے بھی ، جگہ کے لحاظ سے بھی اس کے نفس کے اندر کامل ہمدردی موجود تھی۔اس لئے قدرت کی تجلیات کا پورا اور کامل حصہ اُس کو ملا اور وہ خاتم الانبیاء بنے۔مگران معنوں سے نہیں کہ آئندہ اُس سے کوئی روحانی فیض نہیں ملے گا بلکہ ان معنوں سے کہ وہ صاحب خاتم ہے بجز اس کی مہر کے کوئی فیض کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔اور اس کی اُمت کے لئے قیامت تک مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کا دروازہ کبھی بند نہ ہوگا۔اور بحجز اُس کے کوئی نبی صاحب خاتم نہیں۔ایک وہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لئے امتی ہونا لازمی ہے۔اور اُس کی ہمت اور ہمدردی نے اُمت کو ناقص حالت پر چھوڑ نانہیں چاہا۔اور ان پر وحی کا دروازہ جو حصول معرفت کی اصل جڑھ ہے بند رہنا گوارا نہیں کیا۔ہاں اپنی ختم رسالت کا نشان قائم رکھنے کے لئے یہ چاہا کہ فیض وحی آپ کی پیروی کے وسیلہ سے ملے اور جو شخص امتی نہ ہو اس پر وحی الہی کا دروازہ بند ہو۔سو خدا نے اِن معنوں سے آپ کو خاتم الانبیاء ٹھہرایا۔لہذا قیامت تک یہ بات قائم ہوئی کہ جو شخص سچی پیروی سے اپنا امتی ہونا ثابت نہ کرے اور آپ کی متابعت میں اپنا تمام وجود محو نہ کرے ایسا انسان قیامت تک نہ کوئی کامل وحی پاسکتا ہے اور نہ کامل ملہم ہوسکتا ہے کیونکہ مستقل نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گئی۔مگر ظلی نبوت جس کے معنی ہیں کہ محض فیض محمدی سے وحی پا ناوہ قیامت تک باقی رہے گی تا انسانوں کی تکمیل کا دروازہ بند نہ ہو اور تا یہ نشان دُنیا سے مٹ نہ جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت نے قیامت تک یہی چاہا ہے کہ مکالمات اور مخاطبات الہیہ کے دروازے کھلے رہیں اور معرفتِ الہیہ جو مدار نجات ہے مفقود نہ ہو جائے۔کسی حدیث صحیح سے اس بات کا پتہ نہیں ملے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم