خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 716
خطبات مسرور جلد 11 716 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء کرے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی ایسا ہو۔کیسی اعلیٰ درجہ کی بات ہے۔اگر انسان کی دعا منظور نہ ہو تو 66 فرشتہ کی تو منظور ہی ہوتی ہے۔میں نصیحت کرتا ہوں اور کہنا چاہتا ہوں کہ آپس میں اختلاف نہ ہو۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں۔اوّل خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لیے کرامت ہو۔یہی دلیل تھی جو صحابہ میں پیدا ہوتی تھی۔كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ (آل عمران : 104 ) یا درکھو! تالیف ایک اعجاز ہے۔یاد رکھو! جب تک تم میں ہر ایک ایسا نہ ہو کہ جو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے، وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔وہ مصیبت اور بلا میں ہے۔اُس کا انجام اچھا نہیں۔۔۔فرمایا: یاد رکھو بغض کا جُدا ہونا مہدی کی علامت ہے اور کیا وہ علامت پوری نہ ہوگی؟ وہ ضرور ہوگی۔تم کیوں صبر نہیں کرتے۔جیسے طبی مسئلہ ہے کہ جب تک بعض امراض میں قلع قمع نہ کیا جاوے، مرض دفع نہیں ہوتا۔میرے وجود سے انشاء اللہ ایک صالح جماعت پیدا ہوگی۔باہمی عداوت کا سبب کیا ہے؟ بخل ہے، رعونت ہے، خود پسندی ہے اور جذبات ہیں۔ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور باہم محبت اور اخوت سے نہیں رہ سکتے۔جو ایسے ہیں وہ یاد رکھیں کہ وہ چند روزہ مہمان ہیں۔جب تک کہ عمدہ نمونہ نہ دکھا ئیں۔میں کسی کے سبب سے اپنے اوپر اعتراض لینا نہیں چاہتا۔ایسا شخص جو میری جماعت میں ہو کر میرے منشاء کے موافق نہ ہو، وہ خشک ٹہنی ہے۔اُس کو اگر باغبان کاٹے نہیں تو کیا کرے۔خشک ٹہنی دوسری سبز شاخ کے ساتھ رہ کر پانی تو چوستی ہے، مگر وہ اُس کو سر سبز نہیں کرسکتا، بلکہ وہ شاخ دوسری کو بھی لے بیٹھتی ہے۔پس ڈرو۔میرے ساتھ وہ نہ رہے گا جو اپنا علاج نہ کرے گا۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 336 مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ( آل عمران : 56) تسلی بخش وعدہ ناصرہ میں پیدا ہونے والے ابنِ مریم سے ہوا تھا، مگر میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ یسوع مسیح کے نام سے آنے والے ابن مریم کو بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں الفاظ میں مخاطب کر کے بشارت دی ہے۔اب آپ سوچ لیں کہ جو میرے ساتھ تعلق رکھ کر اس وعدہ عظیم اور بشارت عظیم میں شامل ہونا چاہتے ہیں کیا وہ وہ لوگ ہو سکتے ہیں جوا تارہ کے درجہ میں پڑے ہوئے فسق