خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 715 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 715

خطبات مسرور جلد 11 715 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء طرف توجہ کرو، جلسے میں آ کر جلسے کے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرو۔اپنے دن تقویٰ اور عشق البی میں گزار و اور ذکر الہی میں گزارو۔اپنے تین دنوں کو قرب الہی حاصل کرنے کا مستقل ذریعہ بنالو۔اپنے نفس کے سرکش گھوڑوں کی گردنیں کاٹو۔آج زمانے کا امام مصلح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں آنے والا نبی جو ہمیں ہماری عملی حالتوں کی درستگی کی طرف بلا رہا ہے تو ہمیں بھی لبیک کہتے ہوئے اس کے گرد جمع ہونے کی ضرورت ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ اس کے گرد جمع ہو جائیں۔آج تلواروں کے جہاد کے لئے نہیں بلایا جارہا بلکہ نفس کے جہاد کے لئے بلایا جا رہا ہے جس میں کامیابی تمام دنیا میں اسلام کا جھنڈا لہرانے کا باعث بنے گی۔پس جیسا کہ میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں ، محبت و اخوت کے نئے معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔زہد و تقویٰ کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی ضرورت ہے۔تواضع اور انکساری کے راستوں کی تلاش کی ضرورت ہے۔اپنے ہر عمل سے سچائی کا بول بالا کرنے کی ضرورت ہے۔تبلیغ اسلام کے لئے جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے عملی اظہار کی ضرورت ہے۔ذکر الہی سے اپنی زبانوں کو تر رکھنے کی ضرورت ہے۔عبادتوں کے اعلیٰ معیار کے ذریعہ قرب الہی کے حصول کی کوشش کی ضرورت ہے۔پس ان تین دنوں میں قادیان کے جلسے کے شاملین بھی بھر پور فائدہ اُٹھا ئیں اور جہاں جہاں بھی اور ان دنوں میں جلسے ہو رہے ہیں، ان میں سے ایک تو امریکہ کا ویسٹ کوسٹ کا جلسہ ہو رہا ہے، پھر مالی میں جلسہ ہو رہا ہے، نائیجر میں جلسہ ہو رہا ہے، نائجیریا میں جلسہ ہو رہا ہے، سینیگال میں جلسہ ہو رہا ہے، آئیوری کوسٹ میں جلسہ ہورہا ہے اور ہر جگہ کے شاملینِ جلسہ ان دنوں سے فیض اٹھانے کی خاص کوشش کریں۔اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جو ان بعض باتوں کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں جو خدا کا رسول ہم سے چاہتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔”جماعت کے باہم اتفاق و محبت پر میں پہلے بہت دفعہ کہہ چکا ہوں کہ تم باہم اتفاق رکھو اور اجتماع کرو۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہی تعلیم دی تھی کہ تم و جو دوا حد رکھو ؛ ور نہ ہو انکل جائے گی۔نماز میں ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کھڑے ہونے کا حکم اسی لیے ہے کہ باہم اتحاد ہو۔برقی طاقت کی طرح ایک کی خیر دوسرے میں سرایت کرے گی۔اگر اختلاف ہو، اتحاد نہ ہو تو پھر بے نصیب رہو گے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ آپس میں محبت کرو اور ایک دوسرے کے لیے غائبانہ دعا کرو۔اگر ایک شخص غائبانہ دعا