خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 717 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 717

خطبات مسرور جلد 11 717 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء و فجور کی راہوں پر کار بند ہیں؟ نہیں، ہر گز نہیں۔جو اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کی سچی قدر کرتے ہیں اور میری باتوں کو قصہ کہانی نہیں جانتے تو یاد رکھو اور دل سے سُن لو۔میں ایک بار پھر اُن لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور وہ تعلق کوئی عام تعلق نہیں ، بلکہ بہت زبر دست تعلق ہے اور ایسا تعلق ہے کہ جس کا اثر ( نہ صرف میری ذات تک ) بلکہ اس ہستی تک پہنچتا ہے جس نے مجھے بھی اس برگزیدہ انسانِ کامل کی ذات تک پہنچایا ہے جو دنیا میں صداقت اور راستی کی روح لے کر آیا۔میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر ان باتوں کا اثر میری ذات تک پہنچا تو مجھے کچھ بھی اندیشہ اور فکر نہ تھا ورنہ ان کی پرواہ تھی مگر اس پر بس نہیں ہوتی۔اس کا اثر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خو د خدائے تعالیٰ کی برگزیدہ ذات تک پہنچ جاتا ہے۔پس ایسی صورت اور حالت میں تم خوب دھیان دے کرسن رکھو کہ اگر اس بشارت سے حصہ لینا چاہتے ہو اور اس کے مصداق ہونے کی آرزور کھتے ہو اور اتنی بڑی کامیابی ( کہ قیامت تک مکفرین پر غالب رہو گے) کی کچی پیاس تمہارے اندر ہے، تو پھر اتنا ہی میں کہتا ہوں کہ یہ کامیابی اس وقت تک حاصل نہ ہوگی جب تک تو امہ کے درجہ سے گزر کر مطمئنہ کے مینار تک نہ پہنچ جاؤ۔اس سے زیادہ اور میں کچھ نہیں کہتا کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے ساتھ پیوند رکھتے ہو جو مامورمن اللہ ہے۔پس اُس کی باتوں کو دل کے کانوں سے سنو اور اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہو جاؤ۔تا کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اقرار کے بعد انکار کی نجاست میں گر کر ابدی عذاب خرید لیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 65-64۔مطبوعہ ربوہ ) ”ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مدنظر رکھیں جو میں بیان کرتا ہوں۔مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتے ناطے ہوتے ہیں۔بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے۔لیکن جناب الہی کو ان امور کی پرواہ نہیں۔اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ الله اتقكُم (الحجرات : 14) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔اب جو جماعتِ اتقیاء ہے متقیوں کی جماعت ہے ”خدا اُس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہو سکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور نا پاک بھی وہیں۔ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے۔خوش قسمت ہے وہ