خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 714 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 714

خطبات مسرور جلد 11 714 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء جنگ حنین میں کیا ہوا تھا ؟ جنگ حنین میں اُس وقت تک کی جو اسلام کی تاریخ تھی اُس وقت مسلمانوں کا پہلا لشکر تھا جو دشمن کے مقابلے میں تیار ہوا تھا اور جس کی تعدا د دشمن کے لشکر کی تعداد سے زیادہ تھی لیکن وہ لوگ جو شکر میں شامل ہوئے تھے، اُن کی اکثریت مومن کی قربانی کی روح کو سمجھنے والی نہیں تھی۔اُس روح سے نا آشنا تھی۔جب دشمن کے چار ہزار تیراندازوں نے حکمت سے اچانک تیروں کی بوچھاڑ کی تو کچھ کمزور ایمان کی وجہ سے اور کچھ لوگ سواریوں کے بدکنے کی وجہ سے ادھر اُدھر ہونے لگے اور اسلامی لشکر تر بتر ہو گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صرف بارہ صحابہ کے ساتھ میدانِ جنگ میں رہ گئے لیکن آپ نے اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹائے۔باوجود اس مشورے کے کہ حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ واپس مڑ کر لشکر کو جمع کیا جائے ، آپ نے فرمایا۔خدا کا نبی میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں موڑتا۔بہر حال آپ نے اس موقع پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جن کی آواز اونچی تھی، انہیں فرمایا کہ انصار کو آواز دے کر کہو کہ اے انصار! خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک جگہ اس بات کی بھی بڑی اعلیٰ وضاحت فرمائی ہے کہ صرف انصار کو کیوں مخاطب کیا گیا ہے۔اس کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن ایک وجہ یہ تھی کہ شکست کے ذمہ دار مکہ کے بعض لوگ تھے جو مہاجرین کے قریبی تھے، اس لئے مہاجرین کو اس حوالے سے ایک ہلکی سی سرزنش بھی کی گئی کہ تم جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے کہ ہم تعداد میں زیادہ ہو گئے ہیں، آج ہمیں کوئی نہیں ہرا سکتا تو تم اپنے جن رشتے داروں اور عزیزوں پر، یا اپنے ہم قوموں پہانحصار کر رہے تھے، اُن کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔بہر حال صرف انصار کو بلایا گیا۔انصار کہتے ہیں کہ جب ہمارے کانوں میں حضرت عباس کی آواز پڑی کہ خدا کا رسول تمہیں بلاتا ہے تو اس سے پہلے بھی ہم اپنی سواریوں کو میدانِ جنگ کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس آواز نے ایسا جادو کیا کہ ایک نیا جذ بہ اور بجلی کی طاقت ہمارے جسموں میں پیدا ہوگئی اور جو سواریاں مڑسکیں اُن کے سوار سواریوں سمیت میدانِ جنگ میں پہنچ گئے اور جو سواریاں باوجود کوشش کے مڑنے کے لئے تیار نہیں تھیں تو اُن سواروں نے اُن سواریوں کی گردنیں اپنی تلواروں سے کاٹ دیں اور دوڑتے ہوئے میدانِ جنگ میں پہنچ گئے اور لبیک یارسول اللہ البیک کہتے ہوئے آپ کے گرد جمع ہو گئے۔تاريخ الخميس جلد 2 صفحه 102-103 باب ذکر غزوہ حوازن بحنین مطبوعه بیروت) پس یہ لبیک کہنے کی وہ روح ہے جسے آج ہمیں بھی کام میں لانا چاہئے ، اسے سمجھنا چاہئے۔آج بھی خدا تعالیٰ کا فرستادہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق ہے، ہمیں بلا رہا ہے کہ اپنی اصلاح کی