خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 713 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 713

خطبات مسرور جلد 11 713 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دینی ضروریات کے لئے چندے کی ضرورت ہے، مومنوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مال میں سے دینی ضروریات کے لئے مال دیں تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے گھر کا سارا مال لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔(شرح العلامة الزرقانی جلد 4 صفحه 69 باب ثم غزوة تبوك مطبوعه دار الكتب العلميه بيروت 1996ء) جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے ظلموں کی وجہ سے اب مجھے لڑائی کا حکم ہوا ہے، اُن کا سختی سے جواب دینے کا حکم ہوا ہے، اُن کے خلاف تلوار اُٹھانے کا حکم ہوا ہے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار لے کر آ گئے کہ میں حاضر ہوں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فوری طور پر صلح حدیبیہ کے موقع پر فیصلہ بدل کر اپنی اس منشاء کا اظہار کیا کہ لڑائی نہ کی جائے بلکہ صلح کی جائے تو سب بڑے بڑے صحابہ اُس وقت بے چین ہوئے، بعض کے ماتھے پر شکنیں آنے لگیں کہ یہ کیا ہونے لگا ہے مگر حضرت ابوبکر صدیق نے کہا بالکل ٹھیک ہے صلح ہی ہونی چاہئے۔ير محمد (ماخوذازصحيح البخارى كتاب الجزية والمواعدة باب منه حديث 3182) پس یہ وہ نمونہ ہے جس کو سامنے رکھنے کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت سے توقع کی ہے۔یہ معیار سامنے رہیں گے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تو قعات کو پورا کرنے کی روح قائم رہے گی۔جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک جلسہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہشات اور توقعات پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو کس قدر تکلیف ہوئی اور کس قدر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 1 صفحہ 360 اشتہار نمبر 117 مطبوعہ ربوہ ) تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔پس آج اس زمانے میں ہم نے اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کا حصہ بننا ہے تو ہمیں آپ کی ہر بات پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔اپنے اندر روحانی انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے اور اس طاقت اور جوش کی ضرورت ہے جس کا نمونہ صحابہ نے جنگ حنین میں دکھایا تھا۔کیونکہ اس جذبے کے بغیر نہ ہم لغویات سے بچ سکتے ہیں ، نہ ہم دنیا کی لالچوں سے بچ سکتے ہیں نہ ہم اپنے نفس کی اصلاح کر سکتے ہیں، نہ ہم جلسوں میں شامل ہونے کی روح کو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو سمجھ سکتے ہیں ، نہ ہمارے اندر اسلام کی خدمت کے جذبے کی حقیقی روح پیدا ہوسکتی ہے۔