خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 711
خطبات مسرور جلد 11 711 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء جور اور بداخلاقی اور بدکلامی جیسی برائیوں کو اپنے دل میں جگہ دیتے ہوئے اپنے عمل سے اُس کے اظہار کرنے ہیں۔عاجزی اور انکساری کے نمونے قائم کرنے ہیں یا تکبر وغرور سے اپنے سروں اور گردنوں کو اکڑا کر چلنا ہے۔سچائی کے خوبصورت موتی بکھیر نے ہیں یا جھوٹ کے اندھیروں کی نذر ہو کر خدا تعالیٰ کی ناراضگی مول لینی ہے۔دینی مہمات کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتے ہوئے مسیح محمدی کے مشن کی تکمیل کرنی ہے یا دنیا داری کی چمک دمک میں ڈوب کر اپنے مقصد کو بھولنا ہے۔پس یہ جائزے اور اپنے عمل کا تنقیدی جائزہ ہمیں بتائے گا کہ ما قَدَّمَتْ لِغَد“ کو کس حد تک ہم نے اپنے سامنے رکھا ہوا ہے۔پس جلسہ کے یہ تین دن ان باتوں کا جائزہ لینے کے لئے اور اپنے عمل خدا تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کے لئے بہترین دن ہیں جبکہ ایک دوسرے کا روحانی اثر قبول کرنے کا بھی رجحان ہوتا ہے۔تہجد کی اجتماعی اور انفرادی ادائیگی ایک خاص ماحول پیدا کر رہی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سجدہ گاہوں اور دعاؤں کی جگہیں بھی بہت سے دلوں کو بے قرار دعاؤں کی توفیق دے رہی ہوتی ہیں۔لا محسوس طریقے پر انتشار روحانیت کا ماحول ہوتا ہے۔پس اس تین دن کے کیمپ سے بھر پور فائدہ اُٹھا ئیں اور کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو اس مقصد کو حاصل کئے بغیر وہاں سے واپس لوٹے۔اور قادیان میں رہنے والا کوئی احمدی ایسا نہ ہو جو ان تین دنوں کو اپنی اصلاح کا بہترین ذریعہ نہ بنالے۔لیکن یہ بھی مد نظر ر ہے، اس بات کی پابندی کی بھی بھر پور کوشش رہے کہ جو تبدیلی پیدا کرنی ہے یا پیدا کی ہے، اس میں مداومت اختیار کرنی ہے۔اُسے اپنی زندگی کا مستقل حصہ بھی بنانا ہے۔اور یہ اُسی وقت ہوسکتا ہے جب وہاں بیٹھا ہوا ہر شخص اس بات کا پختہ ارادہ کرے کہ ہم نے جو پاک تبدیلی پیدا کرنی ہے اُس پر تا زندگی پھر قائم رہنا ہے۔یہ ارادہ کرنا ہے کہ جلسہ سالانہ پر کی جانے والی تقریریں اور علمی باتیں جب ہم سنیں تو وہ صرف دینی علم کے بڑھنے کا ذریعہ نہ ہوں یا عارضی طور پر دینی علم بڑھانے کا ذریعہ نہ ہوں بلکہ اب مستقل طور پر دینی علم بڑھانے کی تا زندگی مسلسل کوشش بھی کرنی ہے اور پھر اس بات کا بھی مصمم ارادہ کرنا ہے کہ ہم نے اُن لوگوں میں سے نہیں بننا جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔جو کچھ علم حاصل کیا ہے اس کو ہم نے اپنی زندگیوں پر لا گو بھی کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو ہمیشہ سامنے رکھنا ہے کہ یا یهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:3) اے مومنو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔پس جب ان باتوں کی طرف توجہ رہے گی تبھی جلسہ میں شامل ہونے کے مقاصد بھی پورے ہوں گے، تبھی وہ دیر پا مقاصد حاصل ہوں گے جن کے حصول کے لئے