خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 710 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 710

خطبات مسرور جلد 11 710 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء اُس کے تعلقات اچھے ہیں یا کمزور یا رنجشیں ہیں یا شکایتیں، جب تک سب کدورتیں مٹا کر ، سب بڑائی اور امیری اور غریبی کے فرق مٹا کر اخوت اور بھائی چارے کے نمونے نہیں دکھاتے تو پھر جلسے کی تقریریں ایسے شامل ہونے والوں کو کوئی فائدہ نہیں دیں گی، نہ ہی وہاں کا ماحول اُن کو کوئی فائدہ دے سکے گا۔جلسے پر آنا بھی بے فائدہ ہو گا۔قادیان کا روحانی ماحول بھی ایسے شخص کے دل کی سختی کی وجہ سے اُس کے لئے روحانیت سے خالی ہوگا۔پس اگر جلسہ کے مقصد سے بھر پور فائدہ اُٹھانا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے سب شامل ہونے والے جلسہ میں شامل ہوں جو جلسہ کے مقاصد میں سے ایسا اہم مقصد ہے جس کا آپ نے خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔امیری، غریبی اور بڑے ہونے اور چھوٹے ہونے کے فرق کو مٹا دیں۔ذاتی رنجشیں بھی ہیں تو یہاں اس ماحول میں وہ ایک دوسرے کے لئے اس طرح دُور کر دیں جیسے کبھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں۔قادیان کے احمدیوں کی مستقل آبادی کو بھی اپنے سینوں کو ٹولنا ہوگا۔اپنے دلوں کے جائزے لینے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا موقع عطا فر مایا کہ مسیح موعود کی بستی میں رہتے ہیں جس کا ماحول ویسا ہونا چاہئے جیسا کہ زمانے کے امام نے خواہش کی تھی اور اس کے لئے جماعت کی تربیت کی کوشش کی اور پھر اس بات کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں یعنی وہاں رہنے والوں کو اپنی زندگی میں ایک اور موقع دیا کہ جلسہ میں شامل ہوں اور اپنی تربیت کے اس اعلیٰ موقع سے فائدہ اُٹھا ئیں۔پس جہاں ہر آنے والا اس محبت و اخوت کے تعلق اور رشتے کو قائم کرے، وہاں اس بستی میں رہنے والا ہر احمدی بھی اس طریق پر اپنا جائزہ لے کہ کیا وہ اس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ یہی جائزے پھر دنیاوی خواہشات سے بھی دلوں کو پاک کریں گے اور آخرت کی طرف بکلی جھکنے کا خیال اور احساس پیدا ہوگا۔خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو گا۔اس دنیا کی خواہشات کی فکر نہیں ہوگی بلکہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ ما قَدَّمَتْ لِغَد (الحشر : 19) کا مضمون جو ہے، یہ سامنے ہوگا۔یہ کوشش ہوگی کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنے کے لئے اور اُخروی زندگی کی بھلائیاں چاہنے کے لئے اس دنیا سے کیا آگے بھیجنا ہے۔زہد اور تقویٰ پر نظر رکھنی ہے یا دنیا داری کا نمونہ دکھانا ہے اور خدا تعالیٰ کے خوف کو دل سے نکال کر یہ زندگی گزارنی ہے۔عہد بیعت کی پابندی کرنی ہے یا عہد بیعت کا خوبصورت پیج صرف سینے پر لگا کر اپنے آپ کو عہد بیعت کو پورا کرنے والا سمجھنا ہے۔خدا ترسی ، پرہیز گاری اور نرم دلی کے اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے ہیں یا ظلم و