خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 712
خطبات مسرور جلد 11 712 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 دسمبر 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے عہد بیعت لیا ہے۔تبھی ہم جلسہ کی برکات سے مستقل فیض پانے والے بن سکیں گے۔تبھی اپنی اصلاح کی طرف ہماری توجہ رہے گی اور ہم اپنے جائزے لیتے رہیں گے۔تبھی اپنے بچوں کے سامنے ہم نیک نمونے قائم کرنے والے بن سکیں گے۔تبھی ہم اپنے بچوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی بن سکیں گے۔تبھی اپنے ماتحتوں اور زیر اثر افراد کی رہنمائی کا حق ادا کرنے کی طرف ہماری توجہ بھی رہے گی۔تبھی ہم تبلیغ کا حق بھی ادا کرنے والا بن سکیں گے۔پس یہ بہت بڑا کام ہے جو ہم میں سے ہر ایک نے انجام دینا ہے۔لیکن اس کے معیار تبھی قائم ہو سکتے ہیں جب ہم حقیقت پسند بن کر اپنی خوبیاں دیکھنے کی بجائے اپنی خامیوں پر نظر رکھنے والے ہوں گے اور اُن کی تلاش میں ہوں گے، جب ہم خدا تعالیٰ کی مغفرت کے حصول کے لئے بے چین ہوں گے، جب ہم خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے آگے اپنی گردنیں ڈال دیں گے، جب ہم اطاعت کے وہ نمونے دکھائیں گے جس میں بہانے اور عذر نہ ہوں بلکہ جن میں فرار کے راستوں کے آگے دیواریں کھڑی ہوں ، عذروں کے راستے کے آگے دیوار میں کھڑی ہوں اور یہ معیار اُس وقت حاصل ہوگا جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم اور اپنی جماعت سے آپ کی توقعات اور خواہشات کو اپنی تمام تر خواہشات پر ترجیح دیں گے۔جب ہم آپ کی خواہشات کے مطابق صدق و وفا کے نمونے دکھائیں گے۔آپ علیہ السلام ہم سے کیا توقعات اور امید رکھتے ہیں۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست اور مطابق رکھو۔جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنی زندگیوں میں کر کے دکھا دیا، ایسا ہی تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاؤ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نمونہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھو۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 248۔مطبوعہ ربوہ ) پس جب ہم ان باتوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں عجیب نمونے نظر آتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت ابوبکر صدیق کے نمونے کی بات کی۔آپ کی زندگی میں ہم صدق و وفا کے جو نمونے دیکھتے ہیں اُن میں ایک عجیب شان نظر آتی ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ میں نبی ہوں تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بغیر کسی سوال کے کہا کہ میں آپ کو خدا تعالیٰ کا نبی مانتا ہوں۔(دلائل النبوة جلد 1 صفحه 24 باب دلائل النبوة فى اسلام ابوبکر مطبوعہ دار الكتب بيروت 2002ء)