خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 664
خطبات مسرور جلد 11 664 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء قرآن شریف بدلا گیا، حالانکہ ثابت نہیں کر سکتے کہ ایک شعشہ بھی بدلا گیا ہے۔جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا، وہی قرآن کریم آج ہے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اب اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا کہ تا آپ اخلاق فاضلہ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عشق دلوں میں قائم کریں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا اجراء کریں۔اور ہمیں اس امر کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہم نے ان چیزوں کی اسی طرح حفاظت کرنی ہے جس طرح صحابہ رضوان اللہ علیہم نے کی تھی۔ہم میں اور دوسری قوموں میں ایسا امتیاز ہونا چاہئے کہ پتہ لگ سکے کہ ہم نے اس امانت کو قائم رکھا ہے۔آپ پھر آگے بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں ایک جماعت ایسی موجود تھی۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا آئندہ نسلوں میں بھی یہی جذبہ موجود ہے؟ کیا کوئی عظمند یہ پسند کر سکتا ہے کہ ایک اچھی چیز اسے تو ملے مگر اُس کی اولا د اُس سے محروم رہے۔پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہو کہ جو شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کی قدر و قیمت جانتا ہے، وہ پسند کرے گا کہ وہ اُس کے ورثاء کو نہ ملے لیکن اُس کی زمین اور اُس کے مکانات انہیں مل جائیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كه وَمَا الْحَيَوةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِب وَ لَهُوَ (الانعام : 33) کہ دنیوی زندگی لہو ولعب کی طرح ہے۔یہ سب کھیل تماشے کی چیزیں ہیں۔یہ ایسی ہی ہیں جس طرح فٹ بال ، کرکٹ یا پا کی ہوتی ہے۔پھر کیا کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ حکومت اُس کی زمین، مکان اور جائیداد تو ضبط کر لے مگر گلی ڈنڈا اُسکے بیٹے کو دے دے یا کوئی پھٹا پرا نافٹبال یا ٹوٹا ہوائینس ریکٹ یا با کی کی سٹک (stick) اُس کے بیٹوں کو دے دے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیوی چیزیں لہو ولعب ہیں اور دین و دنیا میں وہی نسبت ہے جو حقیقی چیز کو کھیل تماشے سے ہوتی ہے اور کوئی شخص یہ کب پسند کر سکتا ہے کہ قیمتی ورثہ تو اُس کی اولا د کو نہ ملے اور لہو ولعب کی چیزیں مل جائیں۔لیکن کیا ہم میں سے ایسے لوگ نہیں ہیں جو عملاً ایسا کرتے ہیں۔جب اُن کا بیٹا جھوٹ بولے، چوری کرے یا کوئی اور جرم کرے تو اُس کی تائید کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ماں باپ چوری چھپے جرم کرنے والوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔اول تو وہ اس وجہ سے مجرم ہیں کہ انہوں نے اولا دکو دینی تعلیم سے محروم رکھا۔اگر اُن کے نزدیک نیکی کی کوئی قیمت ہوتی تو کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ اس سے اپنی اولا دکو محروم رکھتے اور اگر تربیت میں کوتا ہی ہوگئی تو پھر مجرم کی اعانت سے ہی باز رہتے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ۔(المائدة:3) کہ نیکی اور تقویٰ میں ضرور تعاون کرو مگر بدی اور عدوان میں تعاون نہ کرو۔تو آپ نے فرمایا کہ پہلا جرم تو انہوں