خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 665
خطبات مسرور جلد 11 665 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء نے یہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا۔(التحریم: 7) کہ اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اور دوسرا یہ جرم کرتے ہیں ( بعض لوگوں کی شکایات آئی تھیں، اُس پر یہ بیان فرما رہے ہیں۔اور اس طرح کی شکایتیں آجکل بھی آتی ہیں) که وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدة:3) کے حکم الہی کو توڑتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو دین کو نعمت قرار دیتا ہے، مگر وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی دعویدار ہے اس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اول تو اپنی اولاد کو دین سے محروم رکھتے ہیں اور پھر جب وہ شرارت کریں تو اُن کی مدد کرتے ہیں۔حالانکہ وہ بعض ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں کہ جن پر شرافت اور انسانیت بھی چلا اٹھتی ہے۔چہ جائیکہ احمدیت اور ایمان کے متحمل ہو سکیں۔مگر ایسے مجرموں کے والدین، بھائی، رشتہ دار بلکہ دوست اُن کی مدد کرتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ایسا کرنے سے ایمان کہاں باقی رہ جاتا ہے؟ ایسے آدمی کا دین تو آسمان پر اُڑ جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو۔ایک دفعہ بعض صحابہ نے آپ کے پاس کسی مجرم کی سفارش کی تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو وہ بھی سزا سے نہیں بچ سکے گی۔تو تقویٰ اور طہارت ایسی نعمت ہے کہ اس کے حصول کے لئے انسان کو کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو ہمیں دولت ملی ہے وہ اعلیٰ اخلاق ہی ہیں اور اپنی اولادوں کو اُن کا وارث بنانا ہمارا فرض ہے۔اور اگر غفلت کی وجہ سے اس میں کوئی کوتا ہی ہو جائے تو مومن کا فرض ہے کہ وہ تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ نہ دکھائے ، بلکہ اُسی وقت اس سے علیحدہ ہو جائے جس نے جرم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے اس کی ایسی مثالیں ہمیں دکھائی ہیں کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ایسا کرنا ناممکن ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی تھے، اُن کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سید حامد شاہ صاحب مرحوم بہت مخلص احمدی تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کو اپنے بارہ حواریوں میں سے قرار دیا تھا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میرے سامنے بھی جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے حواریوں کے نام گنے تو ان کا بھی نام لیا تھا۔اور پھر ان کے نیک انجام نے اُن کے درجہ کی بلندی پر مہر بھی لگا دی۔ایک دفعہ اُن کے لڑکے کے ہاتھ سے ایک شخص قتل ہو گیا۔مگر یہ قتل ایسے حالات میں ہوا کہ عوام کی ہمدردی اُن کے لڑکے کے ساتھ تھی۔یہ جو بزرگ صحابی سید حامد شاہ صاحب تھے، ان کے بیٹے سے قتل ہوا لیکن حالات ایسے تھے کہ اس قتل کے باوجود عوام الناس ان سے، ان کے بیٹے سے ہی