خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 663
خطبات مسرور جلد 11 663 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء رواں ہو گئے مگر دوسری طرف اُس سچائی سے کتنی محبت تھی جو آپ لائے تھے کہ حضرت عمر جیسا بہادر تلوار لے کر کھڑا ہے کہ جو کہے گا آپ فوت ہو گئے ہیں میں اُسے جان سے ماردوں گا اور بہت سے صحابہ اُن کے ہم خیال ہیں۔مگر باوجود اس کے آپ نڈر ہو کر کہتے ہیں کہ جو کہتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں وہ گویا آپ کو خدا سمجھتا ہے۔میں اُسے بتاتا ہوں کہ آپ فوت ہو گئے ہیں۔مگر وہ خدا جس کی آپ پرستش کرانے آئے تھے وہ زندہ ہے۔یہ سچائی کا اثر تھا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے دلوں میں پیدا کر دی تھی کہ وہ صحابہ جونگی تلواریں لے کر کھڑے تھے انہوں نے یہ بات سنتے ہی سر جھکائے اور تسلیم کر لیا کہ ٹھیک ہے، آپ واقعہ میں فوت ہو گئے ہیں۔پھر حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کو جو بے مثل محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تھی ، وہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل ایک لشکر تیار کیا تھا کہ شام کے بعض مخالفین کو جا کر اُن کی شرارتوں کی سزادے۔ابھی یہ شکر روانہ نہیں ہوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔آپ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ منتخب ہوئے اور اکثر صحابہ نے اتفاق کر کے آپ سے عرض کیا کہ اس لشکر کی روانگی ملتوی کر دی جائے کیونکہ چاروں طرف سے عرب میں بغاوت کی خبریں آ رہی تھیں اور مکہ اور مدینہ اور صرف ایک اور گاؤں تھا جس میں باجماعت نماز ہوتی تھی۔لوگوں نے نمازیں پڑھنی بھی چھوڑ دی تھیں اور لوگوں نے یہ مطالبہ شروع کر دیا تھا کہ ہم زکوۃ نہیں دیں گے۔صحابہ نے حضرت عمر کو حضرت ابوبکر کے پاس بھیجا کہ اس لشکر کو روک لیں۔کیونکہ اگر بوڑھے بوڑھے لوگ یا بچے ہی مدینہ میں رہ گئے تو وہ باغی لشکروں کا مقابلہ کس طرح کر سکیں گے۔یعنی جو دوسرے باغی لوگ تھے اُن کا مقابلہ مدینہ کے یہ بوڑھے کس طرح کر سکیں گے۔مگر حضرت ابوبکر نے اُن کو یہ جواب دیا کہ کیا ابو قحافہ کے بیٹے کو یہ طاقت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے لشکر کو روک لے۔خدا کی قسم ! اگر باقی مدینہ میں داخل بھی ہو جائیں اور ہماری عورتوں کی لاشوں کو کتے گھسیٹتے پھریں، جب بھی وہ پشکر ضرور جائے گا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کو آپ سے کتنا عشق تھا مگر چونکہ آپ صدیقیت کے مقام پر تھے اس لئے جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کی عظمت اس سے بھی زیادہ ہے۔پس ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تعلیم کو لیا اور اسے قائم رکھا۔حتی کہ دشمن بھی اقرار کرتے ہیں کہ اُسے ذرہ بھر بھی نہیں بدلا گیا۔عیسائی، ہندو، یہودی غرضیکہ سب مخالف قو میں تسلیم کرتی ہیں کہ قرآن کریم کا ایک شعشہ بھی نہیں بدلا۔آج یہاں کے نام نہادر یسر چرز (Researchers) کو جو یہ اُبال چڑھا ہے کہ :