خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 654
خطبات مسرور جلد 11 654 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء خطبہ جمہ سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسح الخامس اید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013ء بمطابق 29 نبوت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی معرفت اور قرب حاصل کرے۔مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) جو اس اصل غرض کو مد نظر نہیں رکھتا اور رات دن دنیا کے حصول کی فکر میں ڈوبا ہوا ہے کہ فلاں زمین خریدلوں، فلاں مکان بنالوں، فلاں جائداد پر قبضہ ہو جاوے تو ایسے شخص سے سوائے اس کے کہ خدا تعالیٰ کچھ دن مہلت دے کر واپس بلا لے اور کیا سلوک کیا جاوے۔انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کا ایک درد ہونا چاہئے جس کی وجہ سے اُس کے نزدیک وہ ایک قابلِ قدر شئے ہو جاوے گا۔اگر یہ درد اُس کے دل میں نہیں ہے اور صرف دنیا اور اُس کے مافیہا کا ہی درد ہے تو آخر تھوڑی سی مہلت پا کر وہ ہلاک ہو جاوے گا۔“ پھر فرمایا: ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 222۔مطبوعہ ربوہ ) افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دنیا میں آتے ہیں، بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مد نظر رکھیں، وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اُس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں۔وہ دنیا ہی میں منہمک اور فنا ہو جاتے ہیں۔انہیں خبر بھی نہیں