خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 655 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 655

خطبات مسرور جلد 11 655 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 29 نومبر 2013 ء ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 137 - مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وسعت ہے، یہ معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے جو فرمایا کہ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57) کہ ہر معاملے میں خدا تعالیٰ کی رضا کو مدنظر رکھنا ہی اصل عبادت ہے اور اصل عبادت وہ ہے جس میں خدا تعالیٰ کے احکامات سامنے ہوں۔دنیا بھی کمانی ہے تو خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے اصول کے ساتھ ، نہ یہ کہ ہر وقت دنیا کا حصول ہی پیش نظر رہے اور پھر اس کے لئے غلط ہتھکنڈے سچ ، جھوٹ ، دھوکہ، فریب سے جس طرح بھی ہو کام لیا جائے اور خدا تعالیٰ کو بالکل بھلا دیا جائے۔عبادت کا حق صرف نمازیں پڑھنے سے ادا نہیں ہوتا۔گزشتہ خطبہ میں میں نے اس پر روشنی ڈالی تھی کہ اگر خدا تعالیٰ کے باقی احکامات کی ادائیگی سامنے رکھتے ہوئے اُن پر عمل نہ ہو تو نمازیں بھی کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔مثلاً اگر انسان کے ہر معاملے میں سچائی نہیں تو عبادت کرنا اور مسجد میں آ کر نمازیں پڑھنا، عبادت کرنے والوں میں شمار نہیں کروائے گا۔اسی طرح کینہ ہے، حسد ہے، بغض ہے اور بہت سی برائیاں ہیں۔یہ عبادت کی روح کو ختم کر دیتی ہیں۔پس ایک حقیقی عابد اُسی وقت عابد کہلا سکتا ہے جب ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا مد نظر ہو اور اپنے دنیاوی فوائد کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں۔اس مضمون کو میں اکثر بیان کر کے توجہ دلاتا رہتا ہوں۔آج اس مضمون کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطبہ سے استفادہ کرتے ہوئے آپ کے سامنے پیش کروں گا۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق تھا کہ واقعات کے ساتھ مضمون کو بیان فرمایا کرتے تھے کہ ان سے بعض پہلوؤں کی عملی شکل ہمارے سامنے آ جاتی ہے۔بہر حال خاص طور پر واقعات میں بھی وہی بیان کروں گا۔شاید مختصر ہو جائیں۔اس سے پہلے کہ میں اس مضمون کو آگے چلاؤں ، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام کے بارے میں اُن کا ایک ارشاد بھی آپ کے سامنے رکھوں گا تاکہ نئی نسل اور آنے والوں کے علم میں اس لحاظ سے بھی اضافہ ہو۔1936ء کی شوری کے موقع پر آپ نے فرمایا کہ: ایک خلافت تو یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ لوگوں سے خلیفہ منتخب کراتا ہے اور پھر اُسے قبول کر لیتا ہے مگر یہ ویسی خلافت نہیں، (یعنی اُن کی ) یعنی میں اس لئے خلیفہ نہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی وفات کے دوسرے دن جماعت احمدیہ کے لوگوں نے جمع ہو کر میری خلافت پر اتفاق کیا، بلکہ اس لئے بھی