خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 640
خطبات مسرور جلد 11 640 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء حالت ہے۔اللہ تعالیٰ اُس کو بھی شفائے کاملہ و عاجلہ عطا فرمائے۔بشیر کیانی صاحب شہید کے بڑے دامادظہور احمد کیانی صاحب کو 21 اگست کو شہید کیا گیا تھا اور ان کے بیٹے اعجاز احمد کیانی کو 18 ستمبر کو اسی علاقے اورنگی ٹاؤن میں دشمنانِ احمدیت نے شہید کیا تھا۔ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دو چچا مکرم یوسف کیانی اور سعید کیانی صاحب کے ذریعہ ہوا۔1936ء میں انہوں نے بیعت کی اور مطالعہ کرنے کے بعد جماعت مبائعین میں شامل ہوئے۔بشیر کیانی صاحب میٹرک کی تعلیم کے بعد آرمی میں بطور سپاہی بھرتی ہو گئے اور 1979ء میں آپ کا ٹرانسفر کراچی ہو گیا اور یہیں سے آپ ریٹائر ہوئے۔مرحوم کی عمر اڑسٹھ (68) سال تھی۔بڑے خوش اخلاق تھے اور جذباتی طبیعت کے مالک تھے۔دعوت الی اللہ کے انتہائی شوقین تھے۔جب کہیں موقع ملتا تو دوست احباب کو تبلیغ کرتے۔انتہائی دلیر اور بہادر شخصیت کے مالک تھے۔یکے بعد دیگرے داماد اور بیٹے کی شہادت کے بعد خوفزدہ نہیں تھے بلکہ اپنی اولا د کو حو صلے کی تلقین کیا کرتے تھے۔شہادت کے روز اپنے بیٹے اعزاز احمد کیانی کو کہا کہ ہم نے خود اپنی حفاظت کرنی ہے اور یہاں سے جانا نہیں۔ایک قائد علاقہ لکھتے ہیں کہ ان کے بیٹے اعجاز کیانی صاحب کی شہادت کے بعد جب وہ شہید کے خاندان کے جملہ افراد کو چھوڑنے کے لئے ائیر پورٹ گئے تو اعجاز کیانی صاحب شہید کی والدہ کے غم کی حالت کو دیکھتے ہوئے ویل چیئر منگوائی ، جسے دیکھ کر بشیر کیانی صاحب شہید نے کہا کہ ابھی تو میرا ایک ہی بیٹا شہید ہوا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے بیٹھ جائیں؟ غیرت رکھنے والے تھے۔سعودی عرب میں ان کی آرمی سروس کے دوران پوسٹنگ ہوئی۔لیکن وہاں شرط یہ تھی کہ اپنے پاسپورٹوں پر احمدیت کا نام نہ لکھیں۔انہوں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا۔بے شک میں نہ جاؤں، یہ شرط مجھے قبول نہیں۔شہید مرحوم نے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ فاطمہ بشیر کیانی صاحبہ کے علاوہ دو بیٹے اعزاز کیانی اور شہباز کیانی چھوڑے ہیں۔پانچ بیٹیاں ہیں۔ایک طاہرہ ظہور کیانی ہے جو شہید کی بیوہ ہیں۔پھر ناہیدہ طیب، شاہدہ بشیر، ساجدہ بشیر اور وجیہ کنول۔اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان سب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔بشیر کیانی صاحب کے بارے میں اُن کی ایک عزیزہ نے لکھا کہ کراچی میں آپ کے دو عزیز شہید کر دیئے گئے تو میں نے اُن کو کہا کہ کراچی چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ بڑے غم کی حالت میں بیٹھے ہوئے تھے، آنکھوں میں آنسو تھے تو ایک دم جھکی ہوئی کمر کو سیدھی کر کے کھڑے ہو گئے۔کہنے لگے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ہم نے تو احمدیت کو زمین کے کناروں تک پھیلانا ہے اور تم کہہ رہی ہو کر اچی چھوڑ دیں۔یہ قربانیاں ہمارے حوصلے کو بلند