خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 641
خطبات مسرور جلد 11 641 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء کرنے والی ہیں۔دشمن ہمارے ایمان کمزور نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ دشمن کی پکڑ کے بھی جلدی سامان کرے۔دوسرا جنازہ تو یہاں بعض لوگ پڑھ چکے ہوں گے۔یہیں کے رہنے والے ہمارے بھائی میاں عبدالسمیع عمر صاحب تھے۔ان کو دل کا عارضہ تھا۔ان کا آپریشن ہوالیکن کامیاب نہیں ہو سکا اور اس دوران میں ہی کچھ عرصے بعد وفات ہوگئی۔69 سال ان کی عمرتضی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ آپ حضرت خلیفہ ایسی الاول کے پوتے تھے اور مفتی محمد صادق صاحب کے نواسے تھے۔مجلس انصاراللہ یوکے والے تو جانتے ہیں، یہاں خدمت کرتے رہے ہیں، قائد تعلیم تھے، قائد تربیت تھے۔بڑے اخلاص اور وفا سے، محنت سے کام کرتے رہے۔دعا گو اور حلیم اور شفیق ،منکسر المزاج، صلہ رحمی کرنے والے، متوکل انسان تھے۔خلافت سے بڑی محبت اور وفا کا تعلق تھا۔کوئی بھی ان کا کام ہوتا تو یہ مجھے ضرور اطلاع دیا کرتے تھے۔بڑی اچھی ان کی تلاوت تھی۔ان کے ایک بھائی منیر عمر صاحب 28 رمئی 2010ء میں شہید ہو گئے تھے۔آپ نے اپنے پسماندگان میں ایک اہلیہ اور بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔تیرا جنازہ عزیزم مزمل الیاس کا ہے۔یہ طالب علم جامعہ احمد یہ تھے۔چک چٹھہ ضلع حافظ آباد کے رہنے والے تھے۔اچانک جامعہ میں ہی 9 ستمبر کو فجر کے وقت ان کی وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔سترہ سال ان کی عمر تھی۔درجہ مہدہ جامعہ کے طالب علم تھے اور بڑے شوق سے جامعہ میں داخل ہوئے تھے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی جو مرضی تھی وہ ہوا۔لیکن سپر نٹنڈنٹ ہوٹل کہتے ہیں کہ نمازوں کے بڑے پابند، با قاعدہ تلاوت کرنے والے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بڑے شوق سے مطالعہ کرنے والے تھے۔میرے خطبات بڑے غور سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے سنتے تھے۔ان کے نانا نے کہا کہ نماز تہجد اس نے کبھی نہیں چھوڑی۔حفاظت مرکز کی ڈیوٹیوں کے دوران اکثر شہادت کی تمنا کیا کرتے تھے۔ان کے والدین نے بھی بڑا صبر دکھایا ہے اور انہوں نے کہا ہے اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہیں اور اُس کے شکر گزار ہیں کہ ہمارے بچے کی قربانی کو اتنی جلدی قبول فرمالیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور والدین کو بھی صبر عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 6 دسمبر 2013 ء تا 12 دسمبر 2013 ءجلد 20 شمارہ 49 صفحہ 5 تا10 )