خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 57
خطبات مسرور جلد 11 57 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء فرق نہ تھا۔وہی تمام جسم، وہی گندمی رنگ، وہی سیدھے بال ، وہی پگڑی اور اُس کی وہی بندش اور وہی کالا لمبا چوغہ اور وہی سفید پاجامہ، غرضیکہ ہو بہو وہی شخص تھا جس کو میں نے خواب میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھا تھا۔البتہ میرے ہم جماعت عبد اللہ کے بجائے میرے ہمراہ چوہدری عبدالحئی خان صاحب احمدی کا ٹھگڑی جو کہ اب پنشنر پوسٹ ماسٹر ہیں ، تھے۔اور دراصل عبد الحئی ، عبد اللہ ہی تھا جس نے مجھے اُس وقت اشارہ کیا کہ مصافحہ کرلو۔چنانچہ میں نے اُن کے ارشاد پر حضرت مسیح موعود کو السلام علیکم عرض کیا اور جواب میں وعلیکم السلام سنا کیونکہ میرے اور حضرت مسیح موعود کے درمیان چند آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔اس واسطے جب میں نے کھڑے ہو کر حضور سے مصافحہ کے واسطے ہاتھ آگے بڑھایا اور حضور تک میرے ہاتھ پہنچ نہ سکے تو کہتے ہیں پھر آپ نے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے زانوؤں کے بل کھڑے ہو کر اس عاجز کو مصافحہ بخشا۔السلام علیکم اور وعلیکم السلام کا تبادلہ مصافحہ کے وقت ہی ہوا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 2 صفحہ 113 تا 115 - از روایات حضرت چوہدری غلام احمد خاں صاحب) میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل صاحب فرماتے ہیں۔مرزا ایوب بیگ صاحب صبح کو میرے پاس آئے۔آواز دی، عبدالعزیز ! عبدالعزیز میں نیچے آیا۔کہنے لگے میری خواب سنیں۔اس لئے سنانے آیا ہوں کہ میں صبح کی نماز پڑھ رہا تھا کہ میری حالت بدل گئی۔میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بڑی تیزی سے تشریف لا رہے ہیں اور میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ کہاں تشریف لے چلے ہیں۔فرما یا مرزا غلام احمد کی حفاظت کے لئے قادیان چلا ہوں۔اس کے بعد ایوب بیگ نے کہا کہ خدا معلوم آج قادیان میں کیا ہے؟ شام کو خبر پہنچی کہ حضرت صاحب کے گھر کی تلاشی ہوئی ہے لیکھرام کے قتل کے سلسلے میں ( جو تلاشی تھی اُس کے لئے پولیس وغیرہ آئی تھی۔وہ تلاشی تھی )۔ان لوگوں کو نہیں پتہ تھا۔خواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے بتا دیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 20-21 از روایات حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل) یہی روایت حضرت سید محمد شاہ صاحب بھی بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کی تلاشی لیکھرام کے قتل کے سلسلہ میں ہوئی۔ہم ایک دن یہاں لاہور میں لنگے منڈی والی مسجد میں مرزا ایوب بیگ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔مرزا صاحب مرحوم کی عمر اُس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی ، (بڑے نیک نوجوان تھے۔مرزا ایوب بیگ کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بڑی تعریف فرمائی ہوئی ہے ) سلام پھرنے کے بعد انہوں نے بیان کیا