خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 56 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 56

خطبات مسرور جلد 11 56 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء کی دیکھی تھی۔ایک سر عمو تفاوت نہ تھی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 3 صفحہ 41-42 و 45-46- از روایات حضرت سید سیف اللہ شاہ صاحب) حضرت چوہدری غلام احمد خان صاحب بیان کرتے ہیں۔مئی 1908ء میں انہوں نے زیارت کی تھی لیکن بیعت نہیں کی تھی۔1909ء میں انہوں نے خلیفہ اول کی بیعت کی۔کہتے ہیں کہ 1905ء کے موسم سرما کا ذکر ہے جبکہ میں آٹھویں جماعت میونسپل بورڈ سکول راہواں ضلع جالندھر میں تعلیم پاتا تھا کہ ایک شب میں نے رویا دیکھا کہ میں اور ایک اور لڑکا مستمی عبداللہ قوم جٹ جو کہ میرا ہم جماعت تھا، کھیل کود یعنی ورزش کے میدان سے اپنی جائے رہائش ) بورڈنگ ہاؤس اہلِ اسلام جو کہ شہر میں بڑے بازار کے نزدیک ہوا کرتا تھا ) کو آ رہے تھے۔چونکہ وہ میدان شہر کی جانب شمال واقع ہے اس لئے ہم شہر میں شمالی سمت سے داخل ہونے والے تھے کہ وہاں ایک گلی میں آنحضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دکھائی دیئے۔حضور کا رُخ شہر کی طرف تھا۔اس واسطے میں شہر کی طرف پیٹھ کرتا ہوا اور اپنا رُخ جانب شمال کرتا ہوا حضور کی طرف بڑھا اور السلام علیکم کہا اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔حضور کے سر پر سفید پگڑی نہایت سادگی سے بندھی ہوئی تھی۔کالا لمبا چونہ اور سفید یا جامہ زیب تن تھا۔گندمی رنگ تھا، بال سیدھے تھے، آنکھیں ٹوپی دار تھیں۔پیشانی فراخ اور اونچی تھی ، بڑھی ہوئی اونچی ناک تھی۔ریش مبارک کے بال سید ھے اور لمبے اور سیاہ تھے۔چہرے پر کوئی شکن نہیں تھا بلکہ خوبصورت نورانی اور چمکدار تھا۔قد درمیانہ تھا۔خواب میں حضور سرور کائنات سے ملاقات کر کے دل میں لذت اور سرور حاصل ہوتا تھا اور دل نہایت خوش و خرم تھا۔یہاں تک کہ بیداری پر بھی وہی لذت اور سرور موجود تھا۔خواب کا دل پر ایسا گہرا نقش ہوا کہ میں آج یہ سطور لکھتا ہوا بھی اس پاک نظارے سے محظوظ اور مسرور ہورہا ہوں اور اس کا دل سے مٹناممکن نہیں۔تبلیغ احمدیت تو مجھے ہو چکی تھی ( تبلیغ ان کو ہو چکی تھی لیکن احمدی نہیں تھے ) کہتے ہیں تبلیغ احمدیت تو مجھے ہو چکی تھی اور میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لا چکا تھا اور بعض ابتلاؤں میں بھی اس ایمان پر قائم رہ چکا تھا (یہ بیعت کر چکے تھے مگر بعد ازاں بعض وجوہات سے پھر مخالف ہو گیا۔( پہلے انہوں نے بیعت کی لیکن پھر بعد میں بیعت سے ارتداد اختیار کر لیا۔کہتے ہیں میں مخالف ہو گیا ) حتی کہ اس خواب سے اڑھائی سال بعد جب میں نے حضرت مسیح موعود کو بتاریخ 18 مئی 1908 ءلاہور میں پہلی دفعہ دیکھا تو مجھے فورامذکورہ بالاخواب یاد آ گیا، کیونکہ خواب میں جس شخص کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھا تھا بعینہ وہی ہی شخص حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نظر آرہا تھا۔دونوں کا حلیہ اور لباس ہو بہو ملتا تھا۔سر نمو کے برابر