خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد 11 620 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء ہوں جہاں حرام کام ہوتے ہیں، شراب بیچی جاتی ہے یا سور کا کاروبار ہوتا ہے، اُن سے چندہ نہیں لینا، تو اُن کی فکر یہ ہوتی تھی کہ ہمارے چندوں میں کمی آجائے گی۔اور پہلے سال ہی جب انہوں نے فکر کا اظہار کیا تو اُن کے چندوں میں کئی لاکھ کا اضافہ ہوا اور کوئی کمی نہیں آئی۔اور اس سال پھر انہوں نے صرف تحریک جدید میں ہی ساڑھے تین لاکھ یورو کا زائد چندہ ادا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اُن کے اموال ونفوس میں برکت ڈالے۔فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔پھر سوئٹزرلینڈ ہے، پھر آسٹریلیا ہے، پھر جاپان ہے۔جاپان کی بھی چوتھی پوزیشن فی کس ادائیگی میں ہے۔یعنی کہیں نہ کہیں نمبر آیا ہے۔برطانیہ پھر جرمنی پھر ناروے، فرانس، جیم ،کینیڈا۔اور مقامی کرنسی کے لحاظ سے جو اضافہ ہوا ہے سب سے زیادہ ، گھانا میں ہوا ہے، پھر جرمنی میں پھر آسٹریلیا میں پھر پاکستان پھر برطانیہ پھر کینیڈا پھر انڈیا پھر امریکہ۔اور میں نے کہا تھا اس سال چندہ ادا کرنے والوں کی طرف زیادہ توجہ دیں، شاملین کو زیادہ سے زیادہ کریں تو سوا دولاکھ نئے چندہ دہندگان شامل ہوئے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ تعداد گیارہ لاکھ چونتیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔افریقہ کے ممالک میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے گھانا سب سے آگے ہے، پھر نائیجیریا، ماریشس، بورکینا فاسو، تنزانیہ، گیمبیا، بین ، کینیا، سیرالیون اور یوگنڈا۔شاملین میں سب سے زیادہ کوشش سیرالیون نے کی ہے، اُس کے بعد پھر مالی ہے، بورکینا فاسو ہے، گیمبیا ہے، بینن ہے،سینیگال، لائبیریا، یوگنڈا ، تنزانیہ۔دفتر اول کے مجاہدین کی تعداد بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک سو چھیں زندہ ہیں۔باقی سب کے کھاتے چل رہے ہیں۔تحریک جدید کی مالی قربانی میں پاکستان کی جو تین بڑی جماعتیں ہیں، اُن میں اول لاہور ہے، دوم ربوہ ہے ، سوم کراچی۔اور اس کے علاوہ دس بڑی جماعتیں جو ہیں ، اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان ،کوئٹہ، شیخوپورہ، پشاور، حیدرآباد، بہاولنگر ، اوکاڑہ، نوابشاہ۔قربانی پیش کرنے والے اضلاع جو ہیں اُن میں سیالکوٹ، سرگودھا، عمر کوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، بدین، نارووال، سانگھڑ، ننکانہ صاحب شامل ہیں اور رحیم یارخان اور ٹو بہ ٹیک سنگھ برابر ہیں۔مجموعی وصولی کے لحاظ سے جرمنی کی جماعتیں نوائس نمبر ایک پہ ، روڈ ر مارک ، کولن ، ہائیڈل برگ،