خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد 11 619 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء کرنے کا مجھے خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی تحدیث بھی ضروری ہے۔اتفاق سے تحریک جدید کا نیا سال میرے اس دورہ کے دوران شروع ہو رہا ہے۔یا یوں کہ لیں کہ میرا یہ دورہ جو آسٹریلیا اور مشرق بعید کا دورہ ہے اس میں تحریک جدید کا گزشتہ سال ختم ہوا ہے جس میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بے شمار نظارے کئے ہیں۔اس دورے کے دوران بھی وہ نظارے دیکھے ہیں جو یقیناً ہماری کوششوں کا نتیجہ نہیں تھے۔اس کی تفصیل تو انشاء اللہ تعالیٰ کسی اور وقت بتاؤں گا۔جیسا کہ میں نے کہا، اس وقت تحریک جدید کا سال ختم ہوا تو میں نے سوچا کہ اس کا اعلان، یعنی نئے سال کے آغاز کا اعلان بھی اس دورے کے دوران جاپان سے کردوں۔پس اس وقت میں اس کے مختصر کوائف جو حسب روایت پیش کیا کرتا ہوں وہ کر کے تحریک جدید کے نئے سال کا جواشی واں سال شروع ہوا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ ، اُس کا اعلان کرتا ہوں۔ان کوائف کے مطابق جور پورٹس آئی ہیں، بہت ساری رپورٹس نہیں بھی آتیں ، اُن کے مطابق اس سال تحریک جدید میں جماعت کو اٹھہتر لاکھ انہتر ہزار ایک سو پاؤنڈ (78,69,100 ) کی قربانی پیش کرنے کی توفیق ملی اور جو گزشتہ سال سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ پاؤنڈ زیادہ ہے۔اضافہ تو شاید زیادہ ہو، کیونکہ مقامی کرنسیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، لیکن پاؤنڈ کی قیمت کے مقابلے میں بہت سارے ممالک کی کرنسی کی قیمت کم ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ بظاہر کم نظر آتا ہے لیکن ملکوں کے لحاظ سے بہت بڑے بڑے اضافے ہوئے ہیں۔پاکستان کی جو پوزیشن ہوتی ہے وہ تو قائم ہے ہی، اُس کے بعد پوزیشن کے لحاظ سے نمبر ایک جرمنی ہے، ویسے نمبر دو۔لیکن پاکستان کے باہر ملکوں میں نمبر ایک جرمنی پھر امریکہ پھر برطانیہ پھر کینیڈا پھر انڈیا، انڈونیشیا، آسٹریلیا پھر عرب کی دو جماعتیں ہیں پھر گھانا اور سوئٹزرلینڈ۔اور جرمنی اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے اپنے لحاظ سے بھی بڑی چھلانگ لگائی ہے۔انہوں نے تحریک جدید میں ہی ساڑھے تین لاکھ یورو سے زائد کا اضافہ کیا ہے۔اور امریکہ سے تقریباً ایک لاکھ بیاسی ہزار پاؤنڈ زیادہ وصولی کی ہے۔امریکہ نے برطانیہ سے پچہتر ہزار پاؤنڈ زیادہ وصولی کی ہے۔اور برطانیہ نے کینیڈا سے چار لاکھ پاؤنڈ زیادہ وصولی کی ہے اور اُس کے بعد جیسا کہ میں نے تفصیل بتائی ، وہ ہے۔جرمنی کے چندہ جات میں جب بھی اضافہ ہوتا ہے مجھے ہمیشہ امیر صاحب جرمنی اور عاملہ کے یہ فکر والےالفاظ سامنے آ جاتے ہیں کہ جب میں نے یہ پابندی لگائی تھی کہ وہ احمدی جو کسی ایسی جگہ کام کر رہے