خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 592
خطبات مسرور جلد 11 592 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء توجہ پیدا ہو۔لیکن یہاں یا د رکھنا چاہئے کہ پیر اور ولی بنے کا یہ مقصد نہیں ہے کہ ہر ایک اپنی اپنی گدی بنا لے گا، بلکہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو اور یہ بھی اُسی صورت میں پیدا ہو گا جب خلافت کے ساتھ ایک وفا کا تعلق ہوگا اور جماعت کے ساتھ جب جڑے رہیں گے۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی جماعت کی ترقی کی پیشگوئی فرمائی ہے اُنہی لوگوں کی ترقی کی پیشگوئی فرمائی ہے جو جماعت کے ساتھ منسلک رہیں گے۔(سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب افتراق الامم حدیث 3992) پس اس بات کو ہمیشہ یادرکھیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا اس مسجد کے بننے سے یہاں رہنے والے احمدیوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔اور وہ یہ ہیں کہ انہوں نے اس مسجد کو آباد بھی کرنا ہے اور اس مسجد میں اس زینت کو لے کر آنا ہے جو خدا تعالیٰ کی نظر میں زینت ہے۔یہ بھی ذمہ داری ہے آپ کی۔اور ایک دوسرے کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں۔یہ بھی ذمہ داری ہے آپ کی۔اور علاقے میں حقیقی اسلام کا پیغام بھی پہنچانا ہے۔یہ بھی ذمہ داری ہے آپ کی۔اگر یہ حق ادا کرتے رہیں گے تو امید ہے آپ کی مسجد کی تعمیر کے لئے کی گئی مالی قربانیاں اور وقت کی قربانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاں یقیناً مقبول ہوں گی۔اور اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔اور اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر کے نظارے آپ دیکھنے والے ہوں گے۔پس اس سوچ کے ساتھ اس مسجد میں آئیں اور اُسے آباد رکھیں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ عبادت کے جذبے سے صبح شام مسجد میں آنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں مہمان نوازی ہوتی ہے۔(صحیح البخاری کتاب الاذان باب فضل من غدا الى المسجد و من راح حديث (662) اور پھر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ایک نماز سے دوسری نماز تک کا جو درمیانی فاصلہ ہے ایک مومن کے لئے اگر وہ خالص توجہ اللہ تعالیٰ کے لئے رکھتا ہے تو اسی طرح ہے جس طرح سرحد کی حفاظت کے انتظامات کر رہا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الطهارة باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره حدیث 587) شیطان سے حفاظت میں رہتا ہے۔اور جب اگلی نماز کے لئے مسجد میں داخل ہوتا ہے تو پھر لباس تقویٰ کے ساتھ جاتا ہے جو بہترین زینت ہے۔پس اس مادی دنیا میں یہ معیار قائم کرنا ایک احمدی کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ہم میں سے ہر ایک کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور جب یہ حقیقت ہم سمجھ لیں گے، اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنے والے ہوں گے، اس زینت کے ساتھ مسجدوں میں