خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 11 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء جائیں گے جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو پہلے سے بڑھ کر انشاء اللہ تعالیٰ حاصل کرتے چلے جائیں گے۔اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ کہ کھاؤ اور پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، کیونکہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ کھانے پینے میں اعتدال ہونا چاہئے اور ہر قسم کی حلال اور طیب غذا کھانی چاہئے اور اُس میں بھی اعتدال ہو۔کیونکہ غذا کا اثر بھی انسان کے خیالات اور جذبات پر ہوتا ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ ضرورت سے زیادہ کھانا انسان کو سست اور کاہل بنادیتا ہے۔رات کا کھانا زیادہ کھایا ہوتو ایسی گہری نیند آتی ہے کہ انسان صبح فجر کی نماز پہ نہیں اُٹھ سکتا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے اور یہ تو دوسری جگہ قرآن شریف میں بھی ہے کہ غیر مومنوں کی نشانی ہے کہ وہ کھانے پینے کی طرف ہی دھیان رکھتے ہیں، جس طرح صرف جانوروں کا یہ کام ہے کہ کھانا اور پینا اُن کا مقصد ہو، جبکہ مومن کا مقصد بہت بالا ہے۔اور یہ مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تمام حلال اور طیب چیزیں انسان کے فائدے کے لئے بنائی ہیں لیکن دنیا کا حصول مقصد نہیں ہونا چاہئے۔ان سے فائدہ ضرور اُٹھائے لیکن یہی مقصد نہ ہو۔بلکہ خدا کی رضا کا حصول مقصد ہو اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ دنیاوی فائدوں کے حصول کے لئے اسراف نہ کیا جائے ، ضرورت سے زیادہ اُن کو سر پر سوار نہ کیا جائے ، اُن کو عبادتوں میں روک نہ بننے دیا جائے۔اگر یہ دنیاوی اکل و شرب، کھانا پینا عبادتوں میں روک بن جائے ، دنیاوی لذات عبادت پر غالب آجائیں تو ایسے اسراف کو خدا تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اعتدال کے ساتھ ہر کام ہو تو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔دنیا کمانے سے خدا تعالیٰ نے نہیں روکا، بلکہ اس بات پر توجہ دلائی ہے کہ مومنین کو اپنے کام کرنے چاہئیں اور پوری توجہ سے کرنے چاہئیں اور وہاں بھی انصاف کرنا چاہئے۔لیکن اگر دنیا کمانا دین کو بھلانے کا باعث بن جائے، نمازوں کی طرف سے توجہ ہٹانے کا باعث بن جائے تو یہ بات پھر انسان کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ایسے اسراف سے بچائے جو خدا تعالیٰ سے دُور کرے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت کی اکثریت ان ذمہ داریوں کو سمجھنے والی ہے اور جیسا کہ میں نے مالی قربانی کے ذکر میں بتایا تھا، کہ بڑھ چڑھ کر قربانی کرنے والی ہے۔اور مالی قربانی کی روح کو سمجھنے والی ہے۔صرف اپنی ذات پر ہی خرچ نہیں کرتے۔لیکن جیسا کہ میں کئی مرتبہ اس فکر کا اظہار کر چکا ہوں کہ