خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد 11 591 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 اکتوبر 2013ء پس مسجد کے بننے پر اس بات پر 3 راضی نہ ہو جائیں کہ ہم نے مسجد بنالی۔اب مسجد بننے کے بعد آپ کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مسجد میں اُس کی زینت کے ساتھ جاؤ۔جس کا حسن تقویٰ سے نکھرتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے بتایا کہ تقویٰ اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق ادا کئے جا رہے ہوں۔جب اپنی عبادتوں کے معیار اونچے کرنے کی کوشش ہو، جب اپنی نمازوں کی بھی حفاظت ہو، جب مسجد کے تقدس کا بھی خیال ہو۔بہت سے لوگ جو دعا کے لئے کہتے ہیں۔یہاں بھی بعض ملاقاتوں کے دوران ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں تو اُن میں سے بعض کے چہروں سے پتہ لگ رہا ہوتا ہے کہ ایک رسمی بات ہے یا کم از کم خود جو بات کہہ رہے ہیں اُس پر عمل نہیں کر رہے۔خود اُن کی دعاؤں کی طرف توجہ نہیں ہے۔نمازوں کی طرف توجہ نہیں ہے۔جب بھی میں نے اُن سے پوچھا یا پوچھتا ہوں کہ تم خود بھی پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہو؟ تو ٹال مٹول والا جواب ہوتا ہے۔یہ جو تصور ہے کہ دعا کے لئے کہ دو اور خود کچھ نہ کرو، یہ بالکل غلط تصور ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد اسلام کی ساۃ ثانیہ ہے۔نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرنا ہے اور یہ مقصد اُس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ہم میں سے ہر ایک مرد عورت ، جوان اور بوڑھا تقویٰ پر چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی امانتوں کا حق ادا کرنے والا نہ بنے۔اپنے عہد کو پورا کرنے والا نہ بنے۔اگر مجھے دعا کے لئے کہا ہے تو خود بھی تو دعاؤں کی طرف توجہ کریں۔خود بھی تو نمازوں کی طرف توجہ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ایک صحابی کو یہی فرمایا تھا کہ اگر تم وہ مقصد چاہتے ہو اور اُس کے لئے مجھے دعا کے لئے کہہ رہے ہو تو پھر خود بھی تم دعاؤں سے میری مدد کرو اور اپنے عمل سے میری مدد کرو۔الہی جماعتوں کا اصل مقصد یہی ہے کہ ہر ایک کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے، پہلے بھی میں یہاں کسی خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں کہ ولی بنو، ولی پرست نہ بنو اور پیر بنو اور پیر پرست نہ بنو۔ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 139 - مطبوعہ ربوہ ) یعنی ہر ایک اپنا خدا تعالیٰ سے تعلق رکھے اور پھر مومنین کی جماعت دعاؤں سے ایک دوسرے کی مدد کریں اور اُن کے دوسرے حقوق ادا کرنے کی کوشش کریں۔اپنی عبادتوں کے بھی حق ادا کریں اور مخلوق کے بھی حق ادا کریں۔اپنے اخلاق کے وہ معیار قائم کریں جس سے غیروں کی بھی آپ کی طرف