خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 579 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 579

خطبات مسرور جلد 11 579 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء اور پردے کا بھی حکم دیتا ہے۔تم تو اس پر عمل نہیں کر رہے۔اسی طرح اور بہت سی برائیاں ہیں۔جھوٹ ہے، چغل خوری ہے اور بہت سے غلط کام ہیں۔ان کی اس وجہ سے معافی نہیں ہو جائے گی کہ کوئی تبلیغ بہت اچھی کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسن قول کہنے والا عمل صالح کرنے والا بھی ہو اور اس بات کا اظہار کرنے والا ہو کہ میں فرمانبردار ہوں، کامل اطاعت کرنے والا ہوں اور تمام حکموں پر سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کا نعرہ لگانے والا ہوں۔اور یہی ایک حقیقی مسلمان کی نشانی ہے۔پس اس حوالے سے میں آسٹریلیا کی جماعت کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اس بات کو یاد رکھیں کہ دعوت الی اللہ، اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے لیکن اس کے لئے ، اس کے ساتھ اور اس کام کو کرنے کے لئے اپنے عمل اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے اور کامل فرمانبرداری اور اطاعت کا نمونہ دکھانے کی ضرورت ہے۔یہ ملک جس کی آبادی 23 ملین کے قریب ہے لیکن رقبے کے لحاظ سے بہت وسیع ہے، بلکہ بر اعظم ہے لیکن بہر حال آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے اور چند شہروں تک محدود ہے۔بے شک بعض شہروں کا فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے لیکن جیسا کہ میں نے جلسہ پر بھی کہا تھا کہ لجنہ ، خدام اور انصار اور جماعتی نظام کو تبلیغ کے کام کی طرف بھر پور توجہ دینی چاہئے۔ہمارا کام پیغام پہنچانا ہے، نتائج پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔اگر ہم اپنے کام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کریں گے تو انشاء اللہ تعالی نتائج بھی پیدا ہوں گے۔کوئی ہمیں یہ نہ کہے کہ ہم تو جماعت احمدیہ کو جانتے نہیں۔اتفاق سے میں نے عید والے دن یہاں سے جو ایم ٹی اے سٹوڈیو کا پروگرام آ رہا تھا دیکھا، تو ہمارے نائب امیر صاحب جو ہیں ، خالد سیف اللہ صاحب، یہ بتا رہے تھے کہ 1989 ء میں ، حضرت خلیفہ اُسیح الرابع نے عید اور جمعہ یہاں پڑھایا اور مسجد بہت بڑی لگ رہی تھی اور زیادہ سے زیادہ اڑھائی سو کے قریب یہاں آدمی تھے ، اور اب اُن کے خیال کے مطابق اڑھائی ہزار کے قریب ہیں۔اُس وقت تو میرا بھی فوری رد عمل یہی تھا کہ الحمد للہ۔اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ تعداد بڑھائی۔لیکن جب میں نے سوچا تو ساتھ ہی فکر بھی پیدا ہوئی کہ تقریباً چوبیس سال کے بعد یہ تعداد بھی زیادہ تر پاکستان اور نجی سے آنے والوں کی ہے۔تبلیغ سے شاید دو چار احمدی ہوئے ہوں اور وہ بھی سنبھالے نہیں گئے۔چوبیس سال میں یہاں کے لوکل، مقامی چوبیں احمدی بھی نہیں بنائے گئے۔یعنی سال میں ایک احمدی بھی نہیں بنا۔یہ تعداد جو بڑھی ہے، وہ یہاں کی تعداد میں اضافہ پاکستان اور نجی کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔آسٹریلیا کی جماعت کی کوشش سے نہیں ہوا۔پس ہمیں حقائق سے آنکھیں بند نہیں کرنی