خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 578 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 578

خطبات مسرور جلد 11 578 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔لیکن اس آیت میں فرمایا کہ یہ سب اچھی باتیں سمٹ کر اس ایک بات میں آجاتی ہیں، اس آیت میں ان کا خلاصہ ہے اور یہی سب سے احسن قول ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف بلاؤ۔اب خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے کو خود بھی اپنا جائزہ لینا ہو گا کہ وہ خود کس حد تک ان باتوں پر عمل کر رہا ہے جن کی طرف بلا یا جا رہا ہے۔میں نے شروع میں بھی کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم وہ بات نہ کہو جو تم کرتے نہیں کیونکہ یہ گناہ ہے۔پس جیسا کہ میں تفصیل سے ذکر کر آیا ہوں، اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے کو اپنے قول وفعل کو ایک کرنا ہوگا اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کرنا ہوگا۔یہ ہے اعلیٰ ترین مثال اسلامی تعلیم کی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤ کہ اس سے بڑا قول اور احسن قول کوئی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ ہے۔لیکن بلانے کے لئے اپنے عمل بھی وہ بناؤ جو عمل صالح ہیں۔عمل صالح وہ عمل ہے جو خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ہے، نیکیوں کو پھیلانے والا ہے، وقت کی ضرورت کے مطابق ہے اور اصلاح کا موجب ہے۔یہاں عملِ صالح کی ایک مثال دیتا ہوں جس کا براہِ راست اس سے کوئی تعلق نہیں لیکن آپ کے لئے واضح کرنے کے لئے ضروری بھی ہے۔اب مثلاً پہلے میں ذکر کر آیا ہوں کہ معاف کرنا اور درگزر سے کام لینا یہ ایک نیک کام ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ معاف کرنے کی عادت ڈالو لیکن ایک عادی چور کو معاف کرنا یا کسی عادی قاتل کو معاف کرنا احسن کام نہیں ہے، نہ عمل صالح ہے۔یہاں عملِ صالح یہ ہوگا کہ معاشرے کو نقصان سے بچانے کے لئے اور برائیوں سے روکنے کے لئے ایسے شخص کو سزا دی جائے جو بار بار یہ غلطیاں کرتا ہے اور جان بوجھ کر کرتا ہے۔اسی طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دعوت الی اللہ کرنے والے سے بہتر اور کوئی نہیں ہے۔یہ ایسا کام ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔لیکن دعوت الی اللہ کرنے والے کو یا درکھنا چاہئے کہ صرف دعوت الی اللہ کافی نہیں بلکہ اُس کا ہر عمل عمل صالح ہونا چاہئے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف تو ایک انسان کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا خاص بندہ ہوں اس لئے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانا میرا فرض ہے لیکن دوسری طرف اپنے بیوی بچوں کا حق ادا نہ کر رہا ہو۔یا عورت اپنے گھر کی نگرانی اور بچوں کی تربیت کی طرف توجہ نہ دے رہی ہو یا دوسرے اسلامی احکامات ہیں اس پر کوئی عمل نہ کر رہا ہو۔عورت کا لباس جس کے حیا اور تقدس کا اسلام حکم دیتا ہو اس کا تو خیال نہ ہوا اور تبلیغ کے لئے سرگرمی ہو۔جب ایسے شخص کی تبلیغ سے کوئی اسلام قبول کر کے پھر قرآن کریم کو پڑھے گا تو کہے گا کہ مجھے تو تم نے تبلیغ کی لیکن قرآن تو حیا