خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 570
خطبات مسرور جلد 11 570 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء بعض باتوں کی اس وقت میں یہاں نشاندہی کرتا ہوں۔مثلاً اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِالله (آل عمران : 111) یعنی تم سب سے بہتر جماعت ہو جسے لوگوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔تم نیکی کی ہدایت کرتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں یا عباد الرحمن کا مقام حاصل کرنے والوں کی جماعت کو یہاں سب انسانوں سے بہتر جماعت فرمایا ہے۔کیوں بہتر ہے؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق احسن کو اپنے قول و فعل میں قائم کیا ہوا ہے۔اس لئے بہتر ہیں کہ نیکی کی ہدایت کرتے ہیں۔نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے اس ہدایت کی تلقین کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنا قرب دلانے کے لئے دی ہے۔فرمایا کہ تم لوگ اس لئے بہتر ہو خیر امت ہو کہ بدی سے روکتے ہو۔ہر گناہ اور برائی سے آپ بھی رکتے ہو اور دوسروں کو بھی رکنے کی تلقین کرتے ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکو اور پھر یہ کہ تمہارا ایمان اللہ تعالیٰ پر مضبوط ہے اس لئے تم خیر امت ہو۔تم اس یقین پر قائم ہو کہ خدا تعالیٰ میرے ہر قول وفعل کو دیکھ رہا ہے۔تم اس ایمان پر قائم ہو کہ دنیا کے عارضی رب میری ضروریات پوری نہیں کرتے بلکہ خدا تعالیٰ جورب العالمین ہے میری ضروریات پوری کرنے والا ہے اور میری دعاؤں کو سننے والا ہے۔اور پھر یہ قول ایسا ہے، یہ بات ایسی ہے جس کو دنیا کو بھی بتاؤ کہ تمہاری بقا خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق جوڑنے اور اس کے حکموں پر عمل کرنے اور چلنے سے ہے۔دنیاوی آسائشوں اور عیاشیوں میں نہیں ہے۔پھر خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان احسن باتوں اور نیکیوں اور برائیوں کی مزید تفصیل دی ہے۔مثلاً یہ کہ فر ما یا کہ وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّوْرَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا (الفرقان: 73) اور وہ لوگ بھی اللہ کے بندے ہیں جو جھوٹی گواہیاں نہیں دیتے اور جب لغو باتوں کے پاس سے گزرتے ہیں وہ بزرگانہ طور پر بغیر ان میں شامل ہوئے گزر جاتے ہیں۔یہاں دو باتوں سے روکا ہے۔ایک جھوٹ سے، ایک لغو بات سے۔یعنی جھوٹی گواہی نہیں دینی۔کیسا بھی موقع آئے ، جھوٹی گواہی نہیں دینی۔بلکہ دوسری جگہ فرمایا کہ تمہاری گواہی کا معیار ایسا ہو کہ خواہ اپنے خلاف یا اپنے والدین کے خلاف یا اپنے کسی پیارے اور رشتہ دار کے خلاف گواہی دینی پڑے تو دو۔پس یہ معیار ہے سچائی کے قائم کرنے کا۔یہ معیار قائم ہوگا تو اس احسن میں شمار ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ نے احسن فرمایا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں انسان