خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 571
خطبات مسرور جلد 11 571 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے والا بنتا ہے۔نیکیوں میں مزید ترقی ہوتی ہے اور ان لوگوں میں شمار ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ سچائی کے بارہ میں مزید فرماتا ہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا ( الفرقان : 70) کہ اے مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور وہ بات کہو جو پیچ دار نہ ہو بلکہ سچی، کھری اور سیدھی ہو۔یہ وہ سچائی کا معیار قائم رکھنے کے لئے احسن ہے جس کو کرنے اور پھیلانے کا اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔لیکن اگر ہم اپنے جائزے لیں تو سچائی کے یہ معیار نظر نہیں آتے۔ہر قدم پر نفسانی خواہشات کھڑی ہیں۔اگر ہم جائزہ لیں ، کتنے ہیں ہم میں سے جو بوقت ضرورت اپنے خلاف گواہی دینے کو تیار ہو جائیں، اپنے والدین کے خلاف گواہی دیں، اپنے پیاروں کے خلاف گواہی دیں اور پھر یہ معیار قائم کریں کہ اُن کی روز مرہ کی گفتگو، کاروباری معاملات وغیرہ جو ہیں ہر قسم کی پیچ دار باتوں سے آزاد ہوں۔کہیں نہ کہیں یا تو ذاتی مفادات آڑے آ جاتے ہیں یا قریبیوں کے مفادات آڑے آ جاتے ہیں۔یا آنا میں آڑے آ جاتی ہیں اور غلطی ماننے کو وہ تیار نہیں ہوتے۔ان باتوں کو پیچ دار بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تا کہ اپنی جان بچائی جائے تا کہ اپنے مفادات حاصل کئے جائیں۔قولِ سدید کا معیار اللہ تعالیٰ کے احسن حکموں میں سے ایک ہے۔یا یہ کہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو یہی احسن ہے کہ سچائی بغیر کسی ایچ بیچ کے ہو۔اگر اس حکم پر عمل ہو تو ہمارے گھروں کے جھگڑوں سے لے کر دوسرے معاشرتی جھگڑوں تک ہر ایک کا خاتمہ ہو جائے۔نہ ہمیں عدالتوں میں جانے کی ضرورت ہو، نہ ہمیں قضا میں جانے کی ضرورت ہو۔صلح اور صفائی کی فضا ہر طرف قائم ہو جائے۔اگلی نسلوں میں بھی سچائی کے معیار بلند ہو جائیں۔پھر سچائی کے معیار کے حصول کی نصیحت کے ساتھ مزید تاکید یہ فرمائی کہ جن مجالس میں سچائی کی باتیں نہ ہوں، گھٹیا اور لغو باتیں ہوں ان سے فوراً اٹھ جاؤ۔جہاں خدا تعالیٰ کی تعلیم کے خلاف باتیں ہوں ان مجالس میں نہ جاؤ۔اب یہ گھٹیا اور لغو باتیں اس زمانے میں بعض دفعہ لاشعوری طور پر گھروں کی مجلسوں میں یا اپنی مجلسوں میں بھی ہو رہی ہوتی ہیں۔نظام کے خلاف بات ہوتی ہے۔کئی دفعہ میں کہہ چکا ہوں کہ عہد یداروں کے خلاف اگر باتیں ہیں، اگر نیچے اُس پر اصلاح نہیں ہو رہی تو مجھ تک پہنچا ئیں۔لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر جب وہ باتیں کرتے ہیں تو وہ لغو باتیں بن جاتی ہیں۔کیونکہ اس سے اصلاح نہیں ہوتی۔