خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 560
خطبات مسرور جلد 11 560 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء جب وہ کمپنی کی میٹنگ کیلئے گئے تو اُس وقت بہت دیر ہو چکی تھی اور یہی گمان تھا کہ کمپنی کا مالک بہت سخت ناراض ہوگا۔مگر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے اس خادم احمدیت پر بجائے ناراض ہونے کے اُن کا مالک اُن کے کام سے بہت خوش ہوا اور انعام کے طور پر اُن کو ایک موٹر سائیکل بھی دی۔اس نو مبائع کا اس بات پر پختہ ایمان ہے کہ یہ انعام انہیں احمدیت کی برکت کی وجہ سے ملا ہے۔پس ان کا اخلاص ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا انہوں نے عہد نبھایا اور اللہ تعالیٰ نے بھی پھر ان کو نوازا۔یہاں بھی مجھے جلسہ پر بعض لوگ ملے ہیں ایک دو کو تو میں جانتا ہوں جو نجی کے تھے۔نئی نئی نوکریاں تھی لیکن چھوڑ کے آگئے اور جلسہ میں شامل ہوئے لیکن بہت سے ایسے بھی یہاں ہیں جنہوں نے اپنے کاموں کی وجہ سے یا کسی وجہ سے، حالانکہ نوکری کا مسئلہ نہیں تھا، جلسہ میں شمولیت اختیار نہیں کی۔جبکہ اُن کو چاہئے تھا کہ جلسہ میں ضرور شامل ہوتے۔پھر ایک دور دراز ملک کے رہنے والے کے اخلاص کی ایک اور مثال دیکھیں کہ دین کا علم حاصل کرنے کی اُن میں کیا تڑپ تھی ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر کیسا فضل فرمایا۔آئیوری کوسٹ سے عمر سنگارے صاحب ہیں، کہتے ہیں کہ احمدی ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے قبولیت دعا اور امام مہدی علیہ السلام کی صداقت کے بہت سے نشانات دکھائے اور ہر روز دکھا رہا ہے جس سے میرے ایمان میں ترقی ہو رہی ہے۔یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ناں کہ میری بعثت کا مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو۔کہتے ہیں جلسہ سالانہ آئیوری کوسٹ کے ایام قریب تھے اور میری مالی حالت ایسی تھی کہ جلسہ میں شامل ہونے کے لئے زادِ راہ پاس نہیں تھا۔کرایہ وغیرہ نہیں تھا۔میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! تیرے مہدی سچے ہیں اور مجھے اُن کے قائم کردہ جلسہ میں جانا ہے۔اُن کی صداقت کے نشان کے طور پر اپنی جناب سے میرے لئے زادِ راہ مہیا فرما۔یہ دعا کی انہوں نے۔اب ان لوگوں کو دیکھیں جنہیں جلسہ کی اہمیت کا اندازہ ہے۔اور ہر ایک اپنا بھی جائزہ لے۔کہتے ہیں اگلے روز ایک غیر از جماعت دوست نے مجھ سے جلسہ پر جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔میں نے جلسہ پر جانے والے قافلہ کی انتظامیہ کو اپنا اور اُس دوست کا نام لکھوا دیا۔جلسہ پر جانے میں دوروز رہ گئے تھے لیکن ابھی جلسہ پر جانے کا کوئی انتظام نہ ہوا تھا۔کرایہ پاس نہ تھا۔کہتے ہیں میں نے دعا جاری رکھی۔اسی دوران مجھے قریبی ایک گاؤں میں جانا پڑ گیا۔وہاں ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا کہ میں تو کل سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں اور اُس نے میرے ہاتھ میں بیس ہزار فرانک تھما دیئے اور یہ کہا کہ یہ آپ کے لئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اُس دوسرے