خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 561 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 561

خطبات مسرور جلد 11 561 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء شخص کے دل میں ڈالا کہ تم اُس کو پیسے دو۔کہتے ہیں میں نے رقم لے کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس رقم سے میں نے سولہ ہزار فرانک دو افراد کا کرایہ ادا کر دیا اور چار ہزار سفر کے لئے رکھ لیا۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل یقیناً اُن کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتا ہے جیسا کہ انہوں نے خود بھی لکھا ہے۔بیعت کے بعد وہ تبدیلی پیدا ہوئی جس نے دنیا کی بجائے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے پر اُن کو مائل کیا۔کسی انسان کے پاس نہیں گئے بلکہ دعا میں لگے رہے کہ اللہ تعالیٰ انتظام کر دے اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا قبول بھی کی اور اُن کی خواہش کو پورا فرمایا۔پس ایسے ایسے ایمان سے پرلوگوں کے دل میں کس طرح شبہات پیدا کئے جاسکتے ہیں کہ نعوذ باللہ احمدیت جھوٹی ہے یا خدا تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں ہے۔یقیناً یہ لوگ ایمان میں مزید پختہ ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اور یہی باتیں جب اپنی نسلوں کو بتائیں گے تو اُن کے ایمان میں ترقی ہوگی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احمدیوں کو فرمایا کہ پاک تبدیلیاں پیدا کرو اور اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے حکموں پر عمل کرو تو تبھی تمہارے ایمان کا صحیح پتہ لگے گا۔اب یورپ میں رہنے والی ایک لڑکی کا واقعہ بیان کرتا ہوں۔کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُس کو اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کی کوشش میں کامیابی عطا فرمائی اور انعامات سے نوازا۔سوئٹزرلینڈ کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ جماعت کی ایک نو جوان بچی تھی جو پروفیشنل تعلیم حاصل کر رہی تھی۔اُس کے لئے اُسے دو دن کالج جانا پڑتا تھا جبکہ ہفتے میں تین دن ایک فرم میں کام سیکھنا ہوتا تھا۔وہ بچی اس فرم میں اکیلی مسلمان تھی۔فرم نے اُسے نماز پڑھنے کی سہولت مہیا کی ہوئی تھی۔جب اُس نے اس فرم میں کورس شروع کیا تو اچانک فرم کو غیر معمولی منافع ہونے لگا اور فرم کو نئے گا ہک ملنے لگے۔نہایت مختصر عرصے میں فرم کی دونئی بلڈنگز اور کئی نئے ورکرز ہائر (Hire) کرنا پڑے۔جس کالج میں بچی جاتی تھی ، وہاں سپورٹس کا ایک پیریڈ ہوتا تھا اور سوئمنگ سپورٹس کا ایک حصہ تھی۔بچی کو سپورٹس کے پیریڈ میں سوئمنگ میں حصہ لینے کے لئے زور دیا گیا۔بچی نے انکار کر دیا کہ لڑکوں کے ساتھ سوئمنگ میں نہیں کر سکتی۔ہاں علیحدہ ہو تو اور بات ہے۔کالج کی انتظامیہ کی طرف سے پھر دباؤ پڑا۔لیکن اس نے مطالبہ نہیں مانا، رڈ کر دیا۔سکول نے اُس فرم میں شکایت کی۔فرم کی طرف سے بھی بچی کود باؤ پڑا کہ یہ کالج کی تعلیم کا حصہ ہے اور اگر تم نہیں کرو گی تو نوکری سے نکال دیں گے۔لیکن بچی جو تھی اپنے ایمان پر قائم رہی اور اُس نے کہا ٹھیک ہے جو مرضی کر وہ لڑکوں کے ساتھ میں سوئمنگ نہیں کر سکتی۔بہر حال ان کا رویہ سخت ہوتا گیا اور