خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 559
خطبات مسرور جلد 11 559 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء اور حیرت ہوتی ہے ان کی وفا اور اخلاص کو دیکھ کر۔اپنی دنیا وی ضروریات سے زیادہ اپنی روحانیت کی فکران میں ہے۔میں گزشتہ دنوں میں جب سنگا پور گیا ہوں، وہاں انڈونیشیا سے بھی بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے اور بڑا لمبا سفر کر کے آئے تھے۔بعض غریب لوگ ایسے بھی آئے تھے کہ جن کے پاس کرائے کے پیسے نہیں تھے تو اگر اُن کی تھوڑی سی کوئی جائید اوزمین یا جگہ تھی تو وہ بیچ کر انہوں نے کرایہ پورا کیا اور سنگا پور پہنچے ہوئے تھے۔اور جب بھی انہوں نے کوئی دعا کے لئے کہا، تو یہ نہیں تھا کہ دنیاوی ضروریات پوری ہوں، بلکہ یہ تھا کہ ہمارے بچے دین پر قائم رہیں اور جس انعام کو ہم نے پالیا ہے یہ ہم سے ضائع نہ ہو۔یہ عورتوں کے بھی جذبات تھے اور مردوں کے بھی۔پھر خلافت سے محبت بے انتہا تھی۔وہی محبت و اخوت کا اظہار تھا جو محض اللہ تھا۔پھر ایک اور مثال پیش کرتا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنا بھی ہے اور عقد اخوت کا اظہار بھی ہے۔فرانس سے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک نو مبائع عبدالعزیز صاحب پچھلے تین چار ماہ سے ملازمت کی تلاش میں تھے۔اسی دوران جب ان کو بتایا گیا کہ ماہ جون کے آخر میں جلسہ سالانہ جرمنی منعقد ہوگا جس میں بتایا کہ خلیفتہ مسیح نے بھی شامل ہونا ہے تو کہنے لگے کہ وہ ہر قیمت پر اس جلسہ میں شامل ہوں گے اور اُن کی بڑی خواہش ہے کہ خلیفہ اسیح سے ملاقات ہو۔بہر حال کہتے ہیں 2 جون کو جب ان سے جرمنی جانے کے لئے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ آج ہی ایک ملازمت ملی ہے۔اگر وہ شروع ہی میں چار غیر حاضریاں کریں گے تو اس بات کا غالب امکان ہے کہ ان کو نوکری سے فوری جواب مل جائے گا۔اب یہ نو مبائع ہیں اور حالات جو دنیا کے آجکل ہیں، خاص طور پر یورپ میں، وہ ایسے ہیں کہ نوکری مشکل سے ملتی ہے۔لاکھوں لوگ بے روز گار ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ وہ ہر حال میں جلسہ سالانہ پر جائیں گے۔اگر نوکری جاتی ہے تو جائے ، میں تو خلیفہ اسیح سے ملاقات کے لئے ضرور جاؤں گا۔الحمد للہ انہوں نے جلسہ میں شرکت کی اور پھر جو دستی بیعت تھی اُس میں بھی شامل ہوئے۔پھر مالی سے ہمارے مبلغ لکھتے ہیں کہ ہماری ریجن کے ایک نو مبائع آدم کلو بالی صاحب ایک کمپنی میں ملازم ہیں۔ایک دن انہیں خدام الاحمدیہ کی میٹنگ کے لئے بلایا گیا۔عین اُسی وقت اُن کی کمپنی کی بھی بہت اہم میٹنگ تھی اور اس میٹنگ کی نوعیت اس قسم کی تھی کہ اگر وہ اس میں شامل نہ ہوتے تو نوکری سے بھی نکالا جا سکتا تھا مگر وہ اس کی پرواہ کئے بغیر جماعتی میٹنگ میں شامل ہوئے اور جماعتی میٹنگ کے اختتام پر