خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 557 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 557

خطبات مسرور جلد 11 557 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں: ” بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہئے اور اس پر کار بند ہونا چاہئے۔اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے۔اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کر کے دکھاوے۔اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ بیعت پھر اس کے واسطے اور بھی باعث عذاب ہوگی کیونکہ معاہدہ کر کے جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر نا فرمانی کرنا سخت خطرناک ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 604-605 - مطبوعہ ربوہ ) ہے۔پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں : ” بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا۔ایک شخص نے رو برو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی۔اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھا یا پروا نہ کی تو اُس کی بیعت بے فائدہ ہے۔ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کر لی لیکن غرض نہیں سمجھی تو بے فائدہ بیعت ہے اور اس کی اس بیعت کی ”خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں۔مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدق دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض و غایت کو مان کر بیعت کرتا ہے۔ایک دوسرا شخص ہے جس نے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت تو نہیں کی ، ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا ہے لیکن بیعت کی غرض و غایت کو سمجھا ہے ، اور پھر اس اقرار کے اوپر کار بند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے، وہ اُس رُو برو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 457 - مطبوعہ ربوہ ) پس یہ حقیقت ہے بیعت کی اور آپ کے آنے کے مقصد کو پورا کرنے کی ، کہ بیعت کی حقیقت کو جاننے اور بیعت کو جاننے کی ضرورت ہے۔اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے بیعت کی حقیقت اُس وقت معلوم ہوگی جب آپ کی بیان فرمودہ دس شرائط بیعت پر غور ہوگا اور اُن پر عمل ہوگا۔میں نے ابھی ایک مثال دی کہ کس طرح افریقہ کے دور دراز علاقے میں بیٹھے ہوئے لوگ بیعت کر کے اپنے ماحول میں نمونہ بن رہے ہیں اور مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ حقیقی مسلمان دیکھنا ہے تو ان احمدیوں میں دیکھو۔پس یہ نمونے ہیں جو ہم نے قائم کرنے ہیں۔نئے بیعت کرنے والوں کی بعض اور مثالیں بھی میں دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شرائط بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ سے تعلق محبت اور اخوت تمام دنیوی تعلقوں سے بڑھ کر ہو گا۔(ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد اول صفحہ 160 مطبوعہ ربوہ)