خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 558 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 558

خطبات مسرور جلد 11 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء جب موقع ملے تو آج بھی دور دراز بیٹھے ہوئے لوگ اس کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو ایمان سے بھرا ہوا ہے۔رشین ممالک میں بیعت کرنے والے احباب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے ایمان اور اخلاص میں غیر معمولی طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ان میں سے چند ایک گزشتہ سال قادیان کے جلسہ میں بھی شامل ہوئے اور واپس آنے کے بعد، اپنے ملک پہنچنے کے بعد جو اپنے تاثرات انہوں نے بھجوائے اُن میں سے ایک صاحب نے لکھا کہ : اس مبارک جگہ کے بارے میں کتب میں پڑھا اور ٹی وی پر دیکھا تھا لیکن جب ہمارے قدم اس زمین پر پڑے تو وہی ماحول جو مسیح موعود علیہ السلام کے وقت تھا ہم پر بھی طاری ہو گیا۔یہاں پر سانس لینا بہت آسان تھا اور آدمی دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتا ہے۔حتی کہ اس کے خیالات تک اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مستغرق ہو جاتے ہیں۔جو کچھ ہم نے وہاں دیکھا اور محسوس کیا اس کو الفاظ میں ڈھالنا مشکل۔ہے۔پھر ایک دوست نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے قادیان جانے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مہدی آخر الزمان کو سلام پہنچانے کی توفیق ملی۔میں نے پہلی مرتبہ احمد یہ مسجد سے اذان کی آواز سنی، کیونکہ وہاں روس میں بھی پابندیاں ہیں، مسجد میں اذان نہیں دے سکتے۔میں نے اپنا سامان جلدی سے رکھا اور وضو کرتے ہوئے یہ سوچتے سوچتے مسجد پہنچا کہ یہ مسیح موعود کی مسجد ہے اور دو رکعت نماز ادا کر کے ایک احمدی بھائی سے پوچھا کہ کیا یہ امام مہدی علیہ السلام کی ہی مسجد ہے؟ تو اُس نے کہا نہیں، یہ مسجد دارالا نوار ہے۔اس پر میں کچھ غمگین ساہوکر اپنے بھائیوں کی طرف گیا اور اُن کو بتایا۔بہر حال ہم نے فجر کی نماز اُسی مسجد میں ادا کی اور پھر ہم امام مہدی علیہ السلام کے مزار پر گئے اور دعا کی۔اُس وقت میں اللہ کے حضور شکر کے ایسے جذبات سے بھرا ہوا تھا کہ جن کو میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔اس کے بعد ہم قادیان میں ہر طرف گھومے۔امام مہدی کی مسجد ، بیت الفکر، بیت الدعا، وہ گھر جہاں امام مہدی السلام پیدا ہوئے اور رہے، جہاں انہوں نے روزے رکھے، اور مسجد نور بھی گئے۔ان جگہوں پر دعا کی توفیق ملی اور ایسی حالت طاری ہوئی جو نا قابل بیان ہے۔ایسے لگا جیسے دماغ چکرا گیا ہو۔ہم تمام اہم جگہوں پر گئے اور میں اس وجہ سے اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں۔پس یہ لوگ ہیں جو دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں۔بہت سے ایسے ہیں جن کو یہ موقع نہیں ملا کہ قادیان جاسکیں۔لیکن یہ لوگ بھی اخلاص و وفا سے پر ہیں جن لوگوں کے خطوط آتے ہیں