خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 542
خطبات مسرور جلد 11 542 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4اکتوبر 2013ء حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 234۔مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا کہ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید رونے دھونے سے اور دعاؤں سے کچھ نہیں ملتا۔اور آجکل دہریت نے نوجوانوں میں بھی اور بعض لوگوں میں بھی اس قسم کے خیالات بڑے زور شور سے پیدا کرنے شروع کئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں : ” بعض لوگوں کا یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کے حضور رونے دھونے سے کچھ نہیں ملتا بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کے صفات قدرت و تصرف پر ایمان نہیں رکھتے۔اگر ان میں حقیقی ایمان ہوتا تو وہ ایسا کہنے کی جرات نہ کرتے۔جب کبھی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حضور آیا ہے اور اس نے سچی توبہ کے ساتھ رجوع کیا ہے۔یہ سچی تو بہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو احکام دیئے ہیں، اُن کی پابندی کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اس پر اپنا فضل کیا ہے۔یہ کسی نے بالکل سچ کہا ہے عاشق که شد که یار بحالش نظر نہ کر اے خواجہ درد نیست وگر نه طبیب ہست کہ یہ عاشق کیسا ہے کہ یار نے اُس کے حال کو دیکھا تک نہیں۔اے دوست! درد ہی نہیں ہے ور نہ طبیب تو حاضر ہے۔تمہارے اندر ہی وہ درد پیدا نہیں ہو رہا ورنہ علاج کے لئے اللہ تعالیٰ تو حاضر ہے۔فرمایا کہ: ” خدا تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ تم اس کے حضور پاک دل لے کر آجاؤ۔صرف شرط اتنی ہے کہ اس کے مناسب حال اپنے آپ کو بناؤ۔اور وہ سچی تبدیلی جو خدا تعالیٰ کے حضور جانے کے قابل بنا دیتی ہے اپنے اندر کر کے دکھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میں عجیب در عجیب قدرتیں ہیں اور اس میں لا انتہا فضل و برکات ہیں مگر ان کے دیکھنے اور پانے کے لئے محبت کی آنکھ پیدا کرو۔اگر سچی محبت ہو تو خدا تعالیٰ بہت دعائیں سنتا ہے اور تائیدیں کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 234۔مطبوعہ ربوہ ) پھر عاجزی اور انکساری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : ”اہل تقویٰ کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ اپنی زندگی غربت اور مسکینی میں بسر کریں۔یہ تقویٰ کی ایک شاخ ہے جس کے ذریعہ سے ہمیں ناجائز غضب کا مقابلہ کرنا ہے۔بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے بچنا ہی ہے۔عجب و پندار غضب سے پیدا ہوتا ہے غرور وتکبر غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عُجب و پندار کا نتیجہ ہوتا ہے۔یعنی غصہ بھی تکبر کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور تکبر اور نخوت کی